تمہارے ہاتھ میں ہے ایک جھوٹی انجیل ہے خیر اب ہمارے وار سے بھی خالی نہ جاؤ اور جو نیچے لکھتا ہوں اس کا جواب دو۔
ورنہ اگر کچھ حیا ہے تو عیسائی مذہب سے توبہ کرو۔
اعتراض یہ ہے کہ جس حالت میں بقول آپ کے وہ تعلیم خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوسکتی کہ جو ایمان کے چھپانے والے کو اس کی توبہ
اور اعمال صالحہ اور صبر اور ثبات کے بعد معافی کا وعدہ دے اور رحمت الٰہی سے ردّ نہ کرے تو پھر انجیل کی تعلیم کس قدر سچائی سے دور ہوگی جس نے پطرس کو باوجود اس کی نہایت مکروہ
بداعمالی اور دروغ گوئی اور سخت انکار اور جھوٹی قسم اور مسیح پر *** بھیجنے اور ایمان کو پوشیدہ کرنے کے پھر قبول کر لیاآپ کا *اعتراض تو صرفؔ اتنا تھا کہ قرآن نے ایسے لوگوں کو بھی
اسلام سے رد نہیں کیا جو کسی خوف سے اسلام کا زبان سے انکار کر دیں مگر انجیل نے تو اس بارے میں حد کر دی کہ ایسے شخص کو بھی پھر قبول کر لیا جس نے نہ صرف ایمان کو پوشیدہ کیا بلکہ
صاف انکار کیا اور اپنے جھوٹ کو سچ ظاہر کرنے کے لئے قسم کھائی۔ بلکہ یسوع صاحب پر *** بھی بھیجی اور اگر کہو کہ انجیل کی تعلیم نے اس کو قبول نہیں کیا بلکہ وہ اب تک مردود اور ایمان
سے خارج ہے تو اس عقیدہ کا اشتہار دے دو۔ اب کہو قرآن پر اعتراض کرنے سے کچھ سزا پائی یا نہیں۔
* نوٹ: گواہی کا چھپانا اور دل میں رکھنا تو درکنار عیسائی تو انجیل کے مرتدوں کو
بھی ایمان لانے پر پھرواپس لے لیتے ہیں۔ منہ