ہزارہا آدمی ان جھوٹے بہتانوں کو سن کر مرتد ہوگئے مگر ان کے خیال میں ہنوز کسی احسن انتظام کی ضرورت نہیں۔ یا الٰہی
یہ لوگ کیوں اندھے ہو گئے۔ مجھےؔ کچھ سبب معلوم نہیں ہوتا کیوں بہرے ہوگئے۔ مجھے کچھ بھی پتہ نہیں لگتا۔ اے قادر خدا اے حامی دین مصطفٰی تو ان کے دلوں کے جذام کو دور کر۔ ان کی آنکھوں
کو بینائی بخش کہ تو جو چاہتا ہے کرتا ہے تیرے آگے کوئی بات ان ہونی نہیں۔ ہم تیری رحمتوں پر بھروسہ رکھتے ہیں تو کریم اور قادر ہے۔
پیارے ناظرین ایک اور اعجوبہ بھی سنو کہ یہ لوگ اپنے
اشتہار میں لکھتے ہیں کہ اس قسم کا قانون پاس کرنا کہ کوئی شخص کسی مذہب پر ایسا اعتراض نہ کرے جو خود اس پر وارد ہوتا ہو یہ صرف ہمارے ماخوذ کرانے کے لئے ہے۔ او ظالم مولویو! تم
مطمئن رہو کہ ہم تمہارے جھوٹ اوربہتان کی و جہ سے تم پر ہرگز نالش نہیں کریں گے یہاں تک کہ اس دنیا سے گذر جائیں گے لیکن برائے خدا اپنی خیانتوں سے اسلام پر ظلم مت کرو۔ یہ بات بالکل
سچ ہے کہ اسلام پر جس قدر عیسائی مذہب اور دوسروں کی طرف سے اعتراض ہو رہے ہیں وہ اعتراض ان کی کتابوں پر بھی وارد ہوتے ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ اگر قانون کا رعب درمیان ہوگا تو ایسے
اعتراض آئندہ نابود ہو جائیں گے اور جو پہلے کرچکے ان کی قلعی کھل جائے گی اور اس طریق سے اسلام کا چہرہ روشن سب کو نظر آجائے گا اور تمام دھوکا دینے والوں کی کار ستانیاں مٹ جائیں
گی سو تم سچ کو مت چھپاؤ بے ایمانی مت اختیار کرو، اس سے ڈرو جس کا غضب ایک کھا جانے والی آگ ہے۔