اور میں نے آپ لوگوں کا یہ قول بھی سنا ہے کہ ہم کیا دستخط کریں عبد اللہ آتھم کے معاملہ میں ہم بہت ہی نادم ہیں اس کا ہم بجز اس کے کیا جواب دیں کہ درحقیقت آپ لوگ آتھم کی پیشگوئی کے بارہ میں بہت ہی شرمندہ ہیں آپ کا کچھ باقی نہیں رہا۔ ہم مانتے ہیں کہ یہ بالکل سچ ہے کہ آپ کی اس پیشگوئی سے ناک کٹ گئی اور بہت ہی شرمندگی آپ کو پہنچی مگر ہمیں اب تک معلوم نہیں کہ اس شرمندگی اور ناک کٹنے کی آپ کے نزدیک وجہ کیا ہے۔ ہاں پیشگوئی کے واقعات اور آپ لوگوں کی ہٹ دھرمی پر نظر ڈال کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ شرمندگی ضرور دو و جہ سے ہے اور کوئی تیسری و جہ نہیں۔ (۱) اول تو یہ کہ آپ صاحبوں کے دل پر یہ سخت تازیانہ لگا کہ آتھم نے اپنے افعال اور اقوال اور خود اپنے اقرار سے پیشگوئی کا سچا ہونا ثابت کر دیا اور قسم کھانے سے پہلوتہی کرکے پیشگوئی کی اس شرط کی طرف لوگوں کے دلوں کو توجہ دلائی جس میں صریح صریح لکھا گیا تھا کہ اگر حق کی طرف رجوع کرے گا تو یہ عذاب اس پر نازل نہیں ہوگا پس اگر اس بات کو سوچنے سے شرمندگی ہوئی ہے کہ آپ لوگوں کے خلاف مراد عیسائیوں پر ایسی حجت پوری ہوئی کہ وہ منہ نہیں دکھا سکتے۔ تو بے شک آپ کی حالت قابل رحم ہے بلکہ ہمیں تو تعجب ہے کہ آپ لوگ اس صدمہ سے فوت کیوں نہ ہوگئے کیونکہ یہ صدمہ بھی کچھ تھوڑا صدمہ نہیں کہ آتھم باوجود آپ لوگوں کی تحریک کے قسم کھا کر اپنی صفائی نہ کر سکا اورؔ اب تک میت کی طرح بیٹھا ہے بے شک یہ شرمندگی کی جگہ تھی آپ لوگ معذور ہیں اور پھر رسالہ ضیاء الحق نے شائع ہوکر اور بھی آپ کے سر پر خاک ڈالی۔ (۲) دوسری وجہ آپ کے شرمندہ ہونے کی یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ جن تین