مفقود الخبررشیوں کو گالیاں کیونکر دے سکتے تھے اور اسلام کا طریق گالی دینا نہیں ہے مگر ہمارے مخالفوں نے ناحق بے و
جہ اس قدر گالیوں سے بھری ہوئی کتابیں لکھی ہیں کہ اگر ان کا ایک جگہ ڈھیر لگایا جائے تو ان کی بلندی ہزار فٹ سے کچھ کم نہ ہو اور ابھی تک بس کب ہے ہر یک مہینہ میں ہزاروں رسالے اور کتابیں
اور اخبار توہین اور سب و شتم سے بھرے ہوئے نکلتے ہیں۔ پس ہمیں ان مولویوں کی حالت پر افسوس تو یہی ہے کہ ایسے مولوی جو کہتے ہیں کہ جو کچھ ہوتا ہے ہوتا رہے کچھ مضایقہ نہیں اگر ان
کی ماں کو کوئی ایسی گالی دی جاتی جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جاتی ہے یا اگر ان کے باپ پر وہ بہتان لگایا جاتا۔ جو سیّدالرسل محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر لگایا جاتا
ہے تو کیا یہ ایسے ہی چپ بیٹھے رہتے۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ فی الفور عدالت تک پہنچتے اور جہاں تک طاقت ہوتی کہ کوشش کرتے کہ تا ایسا دشنام دہ اپنی سزا کو پہنچے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کی عزت ان کے نزدیک کچھ چیز نہیں۔ غضب کی بات ہے کہ مخالفین کی طرف سے تو چھ کروڑ کتاب اب تک اسلام کے رد اور توہین میں تالیف ہو چکیں اور سب و شتم کا کچھ انتہا نہ رہا اور یہ
لوگ کہتے ہیں کہ کچھ مضائقہ نہیں۔ ہونے دو جو کچھ ہوتا ہے۔ عنقریب ہے جو ان گالیوں سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں مگر ان مولویوں کو کچھ پرواہ نہیں۔ حیف ہے ایسے اسلام اور مسلمانی پر کہ
کہتے ہیں کہ کچھ بھی حرج نہیں