رہے ہیں۔ اصل موجب اس کا ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم نے وید کے رشیوں کو گالیاں دی تھیں بلکہ اگر ہم نے کچھ وید کی نسبت براہین میں لکھا تو نہایت تہذیب سے لکھا اور اس وقت لکھا گیا کہ جب دیانند اپنے ستیارتھ پرکاش میں اور کنہیا لعل الکھ دھاری لدھیانوی اپنی کتابوں میں اور اندر من مراد آبادی اپنی پلید تالیفوں میں ہزارہا گالیاں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دے چکے تھے اور ان کی کتابیں شائع ہو چکی تھیں اور ؔ بعض بدبخت اور آنکھوں کے اندھے مسلمان آریہ بن چکے تھے اور اسلام سے نہایت درجہ ٹھٹھا کیا گیا تھا اور پھر بھی ہم نے براہین میں تہذیب کو ہاتھ سے نہ دیا گو ہمارا دل دکھایا گیا اور بہت ہی دکھایا گیا مگر ہم نے اپنی کتاب میں ہرگز ناراستی اور سختی کو اختیار نہ کیا اور جو واقعات دراصل صحیح اور محل پر چسپاں تھے وہی بیان کئے ہم بمقابل آریوں کی گالیوں کے ویدوں کے رشیوں کو کیونکر گالیاں دیتے۔ ہمیں تو اب تک بھی یہ پتہ نہیں لگا کہ ویدوں کے رشی کچھ وجود بھی رکھتے تھے یا نہیں اور کہاں تھے اور کس شہر میں رہتے تھے اور ان کی زندگی کی سوانح کیا تھی اور ان کی لائف کا سلسلہ کس طور کا تھا۔ پھر ہم کیونکر ان کی نکتہ چینی کرسکتے ہمیں اب تک ان کے وجود میں ہی شک ہے اور ہمارا یہی مذہب کہ اگنو اور وایو اور ادت وغیرہ جو وید کے رشی سمجھے جاتے ہیں یہ صرف فرضی اور خیالی نام ہیں اور ہم بالکل اس بات سے ناواقف ہیں کہ یہ لوگ کون تھے اگر ان کا کچھ بھی وجود خارج میں ہوتا تو البتہ ان کی سوانح لکھی جاتی اور وید کے مؤلف وہی معلوم ہوتے ہیں جن کے نام سکتوں کے سر پر موجود ہیں پھر ہم ایسے مستور الحال اور