اس بات کو کون نہیں جانتا۔ کہ ہندوستان اور پنجاب میں کم سے کم ۴۵ برس سے یہ بے اعتدالیاں شروع ہیں۔ ہمارے سید و مولیٰ حضرت خاتم الانبیاء سیّد المطہرین افضل الاولین و الآخرین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر گالیاں دی گئی ہیں اور اس قدر قرآن کریم کو بے جا ٹھٹھے اور ہنسی کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ دنیا میں کسی ذلیل سے ذلیل انسان کے لئے بھی کسی شخص نے یہ لفظ استعمال نہیں کئے یہ کتابیں کچھ ایک دو نہیں بلکہ ہزارہا تک نوبت پہنچ گئی ہے اور جو شخص ان کتابوں کے مضمون پر علم رکھ کر اللہ جلّ شانہٗ اور اس کے رسول پاک کے لئے کچھ بھی غیرت نہیں رکھتا وہ ایک *** آدمی ہے نہ مولوی۔ اور ایک پلید حیوان ہے نہ انسان۔ اور یاد رہے کہ ان میں بہت سی ایسی کتابیں ہیں جو میرے بلوغ کے ایام سے بھی پہلے کی ہیں اور کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ ان کتابوں کی تالیف کا یہ موجب تھا کہ میں یا کسی اور مسلمان نے حضرت مسیح علیہ السلام کو گالیاں دی تھیں جس سے مشتعل ہوکر پادری فنڈل اور صفدر علی اور پادری ٹھاکر داس اور عماد الدین اور پادری ولیمس ریواری نے وہ کتابیں تالیف کیں کہ اگر ان کی گالیاں اور بے ادبیاں جمع کی جائیں تو اس سے سو جز کی کتاب بن سکتی ہیں اور ایسا ہی کوئی اس بات کا ثبوت نہیں دے سکتا کہ جس قدر گالیاں اور بے ادبیاں پنڈت دیانند نے اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں ہمارے سید و مولیٰ نبی صلے اللہ علیہ وسلم کو دیں اور دینِ اسلام کی توہین کی یہ کسی ایسے اشتعال کی و جہ سے تھیں جو ہماری طرف سے ہوا تھا ایسا ہی آریوں میں سے لیکھرام وغیرہ جو اب تک گندی کتابیں چھاپ