ہوتا رہا بلکہ خدا نے اس کی چھاتی گرم کرنے کو ایک اور لڑکی بھی اسے دی اور آپ کے خدا کی شہادت موجود ہے کہ داؤد اور یا کے قصہ کے سوا اپنے تمام کاموں میں راستباز ہے کیا کوئی عقلمند قبول کرسکتا ہے کہ اگر کثرت ازدواج خدا کی نظر میں بُری تھی تو خدا اسرائیلی نبیوں کو جو کثرت ازدواج میں سب سے بڑھ کر نمونہ ہیں ایک مرتبہ بھی اس فعل پر سرزنش نہ کرتا پس یہ سخت بے ایمانی ہے کہ جو بات خدا کے پہلے نبیوں میں موجود ہے اور خدا نے اسے قابل اعتراض نہیں ٹھہرایا اب شرارت اور خباثت سے جناب مقدس نبوی کی نسبت قابل اعتراض ٹھہرائی جاوے۔ افسوس یہ لوگ ایسے بے شرم ہیں کہ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اگر ایک سے اوپر بیوی کرنا زنا کاری ہے تو حضرت مسیح جو داؤد کی اولاد کہلاتے ہیں ان کی پاک ولادت کی نسبت سخت شبہ پیدا ہوگا اور کون ثابت کرسکے گا کہ ان کی بڑی نانی حضرت داؤد کی پہلی ہی بیوی تھی۔ پھر آپ حضرت عائشہ صدیقہؓ کا نام لے کر اعتراض کرتے ہیں کہ جناب مقدس نبویؐ کا بدن سے بدن لگانا اور زبان چوسنا خلاف شرع تھا اب اس ناپاک تعصب پر کہاں تک روویں۔ اے نادان جو حلال اور جائز نکاح ہیں۔ ان میں یہ سب باتیں جائز ہوتی ہیں یہ اعتراض کیسا ہے کیا تمہیں خبر نہیں کہ مردی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے سچی اور کامل