یعنی بیگانے کھیتوں کی بالیاں توڑنا کیا یہ درست تھا۔ اگر کسی جنگ میں کفار کے بلوے اور خطرناک حالت کے وقت نماز عصر
تنگ وقت پر پڑھی گئی تو اس میں صرف یہ بات تھی کہ دو عبادتوں کے جمع ہونے کے وقت اس عبادت کو مقدم سمجھا گیا جس میں کفار کے خطرناک حملہ کی روک اور اپنے حقوق نفس اور قوم اور ملک
کی جائز اور بجا محافظت تھی اور یہ تمام کاروائی اس شخص کی تھی جو شریعت لایا اور یہ بالکل قراٰن کریمکے منشاء کے مطابق تھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ 33۱ ۔یعنی نبی کی ہریک بات خدا تعالیٰ
کے حکم سے ہوتی ہے نبی کا زمانہ نزول شریعت کا زمانہ ہوتا ہے اور شریعت وہی ٹھہر جاتی ہے جو نبی عمل کرتا ہے ورنہ جو جو کارروائیاں مسیح نے توریت کے برخلاف کی ہیں یہاں تک کہ سبت
کی بھی پرواہ نہ رکھی اور کھانے پر ہاتھ نہ دھوئے وہ سب مسیح کو مجرم ٹھہراتے ہیں ذرا توریت سے ان سب کا ثبوت تو دو مسیح پطرس کو شیطان کہہ چکا تھا پھر اپنی بات کیوں بھول گیا۔ اور
شیطان کو حواریوں میں کیوں داخل رکھا۔
اور پھر آپ کا اعتراض ہے کہ بہت سی عورتوں اور لونڈیوں کو رکھنا یہ فسق و فجور ہے اے نادان حضرت داؤد نبی ؑ کی بیبیاں تجھ کو یاد نہیں جس کی
تعریف کتاب مقدس میں ہے کیا وہ اخیر عمر تک حرام کاری کرتا رہا کیا اسی حرام کار کی یہ پاک ذریت ہے جس پر تمہیں بھروسہ ہے جس خدا نے اوریا کی بیوی کے بارے میں داؤد پر عتاب کیا۔ کیا وہ
داؤد ؑ کے اس جرم سے غافل رہا جوؔ مرتے دم تک اس سے سرزد