حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔ اس لئے یورپ کی عورتیں نہایت قابل شرم آزادی سے فائدہ اٹھا کر اعتدال کے
دائرہ سے اِدھر اُدھر نکل گئیں اور آخرنا گفتنی فسق و فجور تک نوبت پہنچی۔
اے نادان! فطرت انسانی اور اس کے سچے پاک جذبات سے اپنی بیویوں سے پیار کرنا اور حسن معاشرت کے ہر قسم
جائز اسباب کو برتنا انسان کا طبعی اور اضطراری خاصہ ہے اسلام کے بانی علیہ الصلٰوۃ والسَّلام نے بھی اسے برتا اور اپنی جماعت کو ایک نمونہ دیا مسیح نے اپنےؔ نقص تعلیم کی وجہ سے اپنے
ملفوظات اور اعمال میں یہ کمی رکھ دی مگر چونکہ طبعی تقاضا تھا اس لئے یورپ اور عیسویت نے خود اس کے لئے ضوابط نکالے۔ اب تم خود انصاف سے دیکھ لو کہ گندی سیاہ بدکاری اور ملک کا
ملک رنڈیوں کا ناپاک چکلہ بن جانا ہائیڈ پارکوں میں ہزاروں ہزار کا روز روشن میں کتوں اور کتیوں کی طرح اوپر تلے ہونا اور آخر اس ناجائز آزادی سے تنگ آکر آہ و فغان کرنا اور برسوں دیوثیوں اور
سیاہ روئیوں کے مصائب جھیل کر اخیر میں مسودۂ طلاق پاس کرانا یہ کس بات کا نتیجہ ہے۔ کیا اس قدوس مطہر۔ مزکّی نبی اُمّیؐ کی معاشرت کے اس نمونہ کا جس پر خباثت باطنی کی تحریک سے
آپ معترض ہیں یہ نتیجہ ہے۔ اور ممالک اسلامیہ میں یہ تعفّن اور زہریلی ہوا پھیلی ہوئی ہے یا ایک سخت ناقص نالائق کتاب پولوسی انجیل کی مخالف فطرت اور ادھوری تعلیم کا یہ اثر ہے اب دو زانو
ہوکر بیٹھو اور یوم الجزا کی تصویر کھینچ کر غور کرو۔