لکھتا ہوں ذرا آنکھیں کھول کر پڑھو اور وہ یہ ہے و قد کنت اعلم انہ خارج و لم اکن اظن انہ منکم فلو انی اعلم انی اخلص الیہ
لتجشمت لقاء ہ و لو کنت عندہ لغسلت عن قدمیہ دیکھو ص ۴ یعنی یہ تو مجھے معلوم تھا کہ نبی
آخرالزمان آنے والا ہے مگر مجھ کو یہ خبر نہیں تھی کہ وہ تم میں سے ہی (اے اہل عرب) پیدا
ہوگا پس اگر میںؔ اس کی خدمت میں پہنچ سکتا تو میں بہت ہی کوشش کرتا کہ اس کا دیدار مجھے نصیب ہو اور اگر میں اس کی خدمت میں ہوتا تو میں اس کے پاؤں دھویا کرتا اب اگر کچھ غیرت اور
شرم ہے تو مسیح کے لئے یہ تعظیم کسی بادشاہ کی طرف سے جو اس کے زمانہ میں تھا پیش کرو اور نقد ہزار روپیہ ہم سے لو اور کچھ ضرورت نہیں کہ انجیل سے ہی بلکہ پیش کرو اگرچہ کوئی
نجاست میں پڑا ہوا ورق ہی پیش کردو اور اگر کوئی بادشاہ یا امیر نہیں تو کوئی چھوٹاسا نواب ہی پیش کردو اور یاد رکھو کہ ہرگز پیش نہ کرسکو گے پس یہ عذاب بھی جہنم کے عذاب سے کچھ کم
نہیں کہ آپ ہی بات کو اٹھا کر پھر آپ ہی ملزم ہوگئے۔ شاباش! شاباش! شاباش! خوب پادری ہو۔
مسیح کا چال چلن آپ کے نزدیک کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو۔ شرابی۔ نہ زاہد نہ عابد۔ نہ حق کا پرستار۔
متکبر۔ خودبین۔ خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔ مگر اس سے پہلے اور بھی کئی خدائی کا دعوے کرنے والے گذر چکے ہیں ایک مصر میں ہی موجود تھا۔ دعووں کو الگ کرکے کوئی اخلاقی حالت جو فی
الحقیقت ثابت ہو ذرا پیش تو کرو تاحقیقت معلوم ہو۔ کسی کی محض باتیں ان کے اخلاق میں داخل نہیں ہوسکتیں۔ آپ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ مرتد جو خود خونی اور اپنے کام سے سزا کے لائق ٹھہر
چکے تھے