بے رحمی سے قتل کئے گئے مگر آپ کو یاد نہ رہا کہ اسرائیلی نبیوں نے تو شیر خوار بچے بھی قتل کئے ایک دو نہیں بلکہ
لاکھوں تک نوبت پہنچی کیا ان کی نبوت سے منکر ہو یا وہ خدا تعالیٰ کا حکم نہیں تھا یا موسیٰ ؑ کے وقت خدا اور تھا اور جناب محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کوئی اور خدا تھا۔
اے
ظالم پادری کچھ شرم کر آخر مرنا ہے۔ مسیح بے چارہ تمہاری جگہ جواب دہ نہیں ہو سکتا اپنے کاموں سے تم ہی پکڑے جاؤ گے اس سے کوئی پُرسش نہ ہوگی۔ اے نادان تو اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکا
دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر کیوں تجھے نظر نہیں آتا تیری آنکھیں کیا ہوئیں جو تو اپنی آنکھوں کو دیکھ نہیں سکتا۔
زینبؓ کے نکاح کا قصہ جو آپ نے زنا کے الزام سے ناحق پیش کر دیا بجز
اس کے کیا کہیں کہ ع
بد گہر از خطا خطا نہ کند
اے نالائق متبنّٰی کی مطلّقہ سے نکاح کرنا زنا نہیں۔ صرف منہ کی بات سے نہ کوئی بیٹا بن سکتا ہے اور نہ کوئی باپ بن سکتا ہے اور نہ ماں بن
سکتی ہے مثلاً اگر کوئی عیسائی ؔ غصّہ میں آکر اپنی بیوی کو ماں کہہ دے تو کیا وہ اس پر حرام ہو جائے گی اور طلاق واقع ہو جائے گی۔ بلکہ وہ بدستور اُسی ماں سے مجامعت کرتا رہے گا پس
جس شخص نے یہ کہا کہ طلاق بغیر زنا کے نہیں ہوسکتی اس نے خود قبول کر لیا کہ صرف اپنے منہ سے کسی کو ماں یا باپ یا بیٹا کہہ دینا کچھ چیز نہیں ورنہ وہ ضرور کہہ دیتا کہ ماں کہنے سے
طلاق پڑ جاتی ہے مگر شاید کہ مسیح کو وہ عقل نہ تھی جو فتح مسیح کو ہے۔ اب تم پر فرض ہے