چنانچہ ڈیون پورٹ صاحب بھی اس قصہ کو اپنی کتاب میں لکھتا ہے لیکن اس وقت کے بادشاہوں کے سامنے حضرت مسیح کی جو عزت تھی وہ آپ پر پوشیدہ نہیں۔ وہ اوراق شائد اب تک انجیل میں موجود ہوں گے جن میں لکھا ہے کہ ہیرو دیس نے حضرت مسیح کو مجرموں کی طرح پلاطوس کی طرف چالان کیا اور وہ ایک مدت تک شاہی حوالات میں رہے۔ کچھ بھی خدائی پیش نہیں گئی اور کسی پادشاہ نے یہ نہ کہا کہ میرا فخر ہوگا۔ اگر میں اُس کی خدمت میں رہوں اور اس کے پاؤں دھویا کروں بلکہ پلاطوس نے یہودیوں کے حوالہ کر دیا۔ کیا یہی خدائی تھی عجیب مقابلہ ہے دو شخصوں کو ایک ہی قسم کے واقعات پیش آئے اور دونوں نتیجہ میں ایک دوسرے سے بالکل ممتاز ثابت ہوتے ہیں۔ ایک شخص کے گرفتار کرنے کو ایک متکبر جبار کا شیطان کے وسوسہ سے برانگیختہ ہونا اور خود آخر *** الٰہی میں گرفتار ہوکر اپنے بیٹے کے ہاتھ سے بڑی ذلت کے ساتھ قتل کیا جانا اور ایک دوسرا انسان جسے قطع نظر اپنے اصلی دعووں کے غلو کرنے والوں نے آسمان پر چڑھا رکھا ہے۔ سچ مچ گرفتار ہو جانا۔ چالان کیا جانا اور عجیب ہیئت کے ساتھ ظالم پولیس کی حوالت میں ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل کیا جانا۔۔۔۔۔۔ افسوس یہ عقل کی ترقی کا زمانہ اور ایسے بے ہودہ عقائد۔ شرم! شرم! شرم اگر یہ کہو کہ کس کتاب میں لکھا ہے کہ قیصر روم نے یہ تمنا کی کہ اگر میں جناب مقدس نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ سکتا تو میں ایک ادنیٰ خادم بن کر پاؤں دھویا کرتا۔ اس کے جواب میں آپ کے لئے اصح الکتب بعد کتٰب اللّٰہ صحیح بخاری کی عبارت