سمجھتا کہ خدمت میں حاضر ہو جاؤں اور غلاموں کی طرح جناب مقدس کے پاؤں دھویا کروں مگر ایک خبیث اور پلید دل پادشاہ
کسرٰی ایران کے فرمان روا نے غصہ میں آکر آپ کے پکڑنے کے لئے سپاہی بھیج دیئے وہ شام کے قریب پہنچے اور کہا کہ ہمیں گرفتاری کا حکم ہے آپ نے اس بے ہودہ بات سے اعراض کرکے
فرمایا تم اسلام قبول کرو۔ اس وقت آپ صرف دو چار اصحاب کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے مگر ربّانی رعب سے وہ دونوں بیدکی طرح کانپ رہے تھے آخر انہوں نے کہا کہ ہمارے خداوند کے حکم
یعنی گرفتاری کی نسبت جناب عالی کا کیا جواب ہے کہ ہم جواب ہی لے جائیں حضرت نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا کل تمہیں جواب ملے گا۔ صبح کو جو وہ حاضر ہوئے تو
آنجناب ؐنے فرمایا کہ وہ جسے تم خداوند خداوند کہتے ہو۔ وہ خداوند نہیں ہے خداوند وہ ہے جس پر موت اور فنا طاری نہیں ہوتی مگر تمہارا خداوند آج رات کو مارا گیا میرے سچے خداوند نے اسی
کے بیٹے شیرویہ کو اس پر مسلط کر دیا سوؔ وہ آج رات اس کے ہاتھ سے قتل ہوگیا اور یہی جواب ہے۔ یہ بڑا معجزہ تھا۔ اس کو دیکھ کر اس ملک کے ہزارہا لوگ ایمان لائے کیونکہ اسی رات درحقیقت
خسرو پرویز یعنی کسریٰ مارا گیا تھا اور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ بیان انجیلوں کی بے سروپا اور بے اصل باتوں کی طرح نہیں بلکہ احادیث صحیحہ اور تاریخی ثبوت اور مخالفوں کے اقرار سے ثابت
ہے۔