رسالت کے مفہوم سے ایک سچے نبی کے لئے قائم ہوتی ہے وہ حضرت مسیح کے لئے قائم نہیں ہوسکی۔ اگر قرآن شریف ان کی نبوت کا بیان نہ کرتا تو ہمارے لئے کوئی بھی راہ کھلی نہیں تھی کہ ہم ان کو سچے نبیوں کے سلسلہ میں داخل کر سکیں کیا جس کی یہ تعلیم ہو کہ میں ہی خدا ہوں اور خدا کا بیٹا اور بندگی اور فرمانبرداری سے آزاد اور جس کی عقل اور معرفت صرف اس قدر ہو کہ میری خودکشی سے لوگ گناہ سے نجات پا جائیں گے۔ ایسے آدمی کو ایک دم کے لئے بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ دانا اور راہ راست پر ہے مگر الحمد للہ کہ قرآنی تعلیم نے ہم پر یہ کھول دیا کہ ابن مریم پر یہ سب الزام جھوٹے ہیں۔ انجیل میں تثلیث کا نام و نشان نہیں۔ ایک عام محاورہ لفظ ابن اللہ کا جو پہلی کتابوں میں آدم ؑ سے لے کر اخیر تک ہزارہا لوگوں پر بولا گیا تھا۔ وہی عام لفظ حضرت مسیح کے حق میں انجیل میں آ گیا پھر بات کا بتنگڑ بنایا گیا یہاں تک کہ حضرؔ ت مسیح اسی بات کی بنیاد پر خدا بھی بن گئے۔ حالانکہ نہ کبھی مسیح نے خدائی کا دعویٰ کیا اور نہ کبھی خودکشی کی خواہش ظاہر کی جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ایسا کرتا تو راستبازوں کے دفتر سے اس کا نام کاٹا جاتا۔ یہ بھی مشکل سے یقین ہوتا ہے کہ ایسے شرمناک جھوٹ کی بنیاد حواریوں کے خیالات کی برگشتگی نے پیدا کی ہو کیونکہ گو ان کی نسبت جیسا کہ انجیل میں بیان کیا گیا ہے یہ صحیح بھی ہو کہ وہ موٹی عقل کے آدمی اور جلد تر غلطی کھانے والے تھے۔ لیکن ہم اس بات کو قبول نہیں کرسکتے کہ وہ ایک نبی کے صحبت یافتہ ہوکر ایسے بے ہودہ خیالات کی جنس کو اپنی ہتھیلی پر لئے پھرتے تھے۔ مگر انجیل کے حواشی پر نظر غور کرنے سے اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ ساری چال بازی حضرت پولس کی ہے۔ جس نے پولیٹیکل چال بازوں کی طرح عمیق مکروں سے کام لیا ہے۔ غرض جس ابن مریم کی قرآن شریف نے ہم کو خبر دی ہے وہ اسی ازلی ابدی ہدایت