کی حالت دینداری تباہ ہوگئی ہو جس کی طرف وہ بھیجا گیا ہے۔ لیکن حضرت مسیح یہود کو ایسا الزام کوئی بھی نہیں دے سکے
جس سے ثابت ہوتا ہو کہ انہوں نے اپنے اعتقاد بدل ڈالے ہیں یا وہ چور اور زنا کار اور قمار باز وغیرہ ہوگئے ہیں یا انہوں نے توریت کو چھوڑ کر کسی اور کتاب کی پیروی اختیار کرلی ہے بلکہ خود
گواہی دی کہ فقیہ اور فریسی موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں اور نہ یہود نے اپنے بدچلن اور بدکار ہونے کا اقرر کیا۔ پھر دوسرے سچے نبی کی سچائی پر یہ بھاری دلیل ہوتی ہے کہ وہ کامل اصلاح کا ایک
بھاری نمونہ دکھلاوے پس جب ہم اس نمونہ کو حضرت مسیح کی زندگی میں غور کرتے ہیں اور دیکھنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے کون سی اصلاح کی اور کتنے لاکھ یا ہزار آدمی نے ان کے ہاتھ پر توبہ
کی تو یہ خانہ بھی خالی پڑا ہوا نظر آتا ہے۔ ہاں بارا۱۲ں حواری ہیں۔ مگر جب ان کا اعمال نامہ دیکھتے ہیں تو دل کانپ اٹھتا ہے اور افسوس آتا ہے کہ یہ لوگ کیسے تھے کہ اس قدر اخلاص کا دعویٰ
کرکے پھر ایسی ناپاکی دکھلا ویں جس کی نظیر دنیا میں نہیں۔ کیا تیس روپیہ لے کر ایک سچے نبی اور پیارے رہنما کو خونیوں کے حوالہ کرنا حواری کہلانے کی یہی حقیقت تھی کیا لازم تھا کہ پطرس
جیسا حواریوں کا سردار حضرت مسیح کے سامنے کھڑے ہوکر ان پر *** بھیجے اور چند روزہ زندگی کے لئے اپنے مقتدا کو اس کے منہ پر گالیاں دے۔ کیا مناسب تھا کہ حضرت مسیح کے پکڑے
جانے کے وقت میں تمام حواری اپنا اپنا راہ لیں اور ایک دم کے لئے بھی صبر نہ کریں۔ کیاجن کا پیارا نبی قتل کرنے کے لئے پکڑا جائے ایسے لوگوں کے صدق و صفا کے یہی نشان ہوا کرتے ہیں جو
حواریوں نے اس وقت دکھلائے ان کے گذر جانے کے بعد مخلوق پرستوں نے باتیں بنائیں اور آسمان پر چڑھا دیا مگر جو کچھ انہوں نے اپنی زندگی میں اپنا ایمان دکھلایا وہ باتیں تو اب تک انجیلوں میں
موجود ہیں غرض وہ دلیل جو نبوت اور