اب کیا دنیا میں کوئی عیسائی یا یہودی یاآریہ اپنے کسی ایسے مصلح کو بطور نظیر پیش کرسکتا ہے۔ جسؔ کا آنا ایک عام اور اشد ضرورت پر مبنی ہو اور جانا اس غرض کی تکمیل کے بعد ہو اور ان مخالفوں کو اپنی ناپاک حالت اور بدعملیوں کا خود اقرار ہو جن کی طرف وہ رسول بھیجا گیا ہو۔ میں جانتا ہوں کہ یہ ثبوت بجز اسلام کے کسی کے پاس موجود نہیں۔ ظاہر ہے کہ حضرت موسٰیؑ صرف فرعون کی سرکوبی کے لئے اور اپنی قوم کو چھڑانے کے لئے اور نیز راہ راست دکھانے کے لئے آئے تھے سارے جہان کے فساد یا عدم فساد کیؔ ان کو کچھ غرض نہیں تھی اور یہ تو سچ ہے کہ فرعون کے ہاتھ سے انہوں نے اپنی قوم کو چھوڑا دیا مگر شیطان کے ہاتھ سے چھوڑا نہ سکے اور نیز وعدہ کے ملک تک ان کو پہنچا نہ سکے اور ان کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو تزکیہ نفس نصیب نہیں ہوا اور بار بار نافرمانیاں کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت موسیٰ فوت ہوگئے اور ان کا وہی حال تھا اور حضرت مسیح کے حواریوں کی حالت خود انجیل سے ظاہر ہے حاجت تصریح نہیں اور یہ بات کہ یہودی جن کے لئے حضرت مسیح نبی ہوکر آئے تھے کس قدر ان کی زندگی میں ہدایت پذیر ہوگئے تھے۔ یہ بھی ایک ایسا امر ہے کہ کسی پر پوشیدہ نہیں بلکہ اگر حضرت مسیح کی نبوت کو اس معیار سے جانچا جائے تو نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کی نبوت اس معیار کی رو سے کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتی۔* کیونکہ اول نبی کے لئے ضروری ہے کہ اس وقت آوے کہؔ جب فی الواقعہ اس اُمّت * نوٹ: عیسائی کفارہ پر بہت ناز رکھتے ہیں مگر عیسائی تاریخ کے واقف اس سے بے خبر نہیں کہ مسیح کی خودکشی سے پہلے جو عیسائیوں کے زعم میں ہی تھوڑے بہت عیسائی نیک چلن تھے مگر خودکشی کے بعد تو عیسائیوں کی بدکاریوں کا بند ٹوٹ گیا۔ کیا یہ کفارہ کی نسل جو اب یورپ میں موجود ہے اپنے چال و چلن میں ان لوگوں سے مشابہ ہے جو کفّارہ سے پہلے مسیح کے ساتھ پھرتی تھی۔ منہ