تمام اشارات قرآن شریف ہی سے مستنبط ہوتے ہیں جس کی تصدیق اسلام کی متفق علیہ تاریخ سے بہ تفصیل تمام ہوتی ہے۔
بعض عیسائی پادریوں نے اس سے بھی بڑھ کر حقیقت فہمی کا جوہر دکھلایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ درحقیقت اصلاح کچھ چیز ہی نہیں اور نہ کبھی کسی کی اصلاح ہوئی۔ توریت کی تعلیم اصلاح کے لئے
نہیں تھی بلکہ اس ایما کے لئے کہ گناہ گار انسان خدا کے احکام پر چل نہیں سکتا اور انجیل کی تعلیم بھی اسی مدعا سے تھی۔ ورنہ طمانچہ کھا کر دوسری گال بھی پھیر دینا نہ کبھی ہوا نہ ہوگا اور
کہتے ہیں کہ کیا مسیح کوئی جدید تعلیم لے کر آیا تھا اور پھر آپ ہی جواب دیتے ہیں کہ انجیل کی تعلیم تو پہلے ہی سے توریت میں موجود تھی۔ اور بائبل کے متفرق مقامات جمع کرنے سے انجیل بن
جاتی ہے پھر مسیح کیوں آیا تھا؟ اس کا جواب دیتے ہیں کہ صرف خودکشی کے لئے مگر تعجب کہ خودکشی سے بھی مسیح نے جی چرایا اور ایلی ایلی لما سبقتنی منہ پر لایا۔ پھر یہ بھی تعجب کا مقام
ہے کہ زید کی خودکشی سے بکر کو کیا حاصل ہوگا اگر کسی کا کوئی عزیز اس کے گھر میں بیمار ہو اور وہ اس کے غم سے چھری مار لے تو کیا وہ عزیز اس نابکار حرکت سے اچھا ہو جائے گا۔ یا
اگر مثلاً کسی کے بیٹے کو درد قولنج ہے تو اس کا باپ اس کے غم میں اپنا سر پتھر سے پھوڑ لے تو کیا اس احمقانہ حرکت سے بیٹا اچھا ہو جائے گا۔
اور یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ زید کوئی گناہ
کرے اور بکر کو اس کے عوض سولی پر کھینچا جائے یہ عدل ہے یا رحم کوئی عیسائی ہم کو بتلاوے ہم اس کے اقراری ہیں کہ خدا کے بندوں کی بھلائی کے لئے جان دینا یا جان دینے کے لئے مستعد
ہونا ایک اعلیٰ اخلاقی حالت ہے لیکن سخت حماقت ہی ہوگی کہ خود کشی کی بے جا حرکت کو اس مد میں داخل کیا جائے۔ ایسی خودکشی تو سخت حرام ہے اور نادانوں اور بے صبروں کا کام ہے۔ ہاں
جاں فشانی کا پسندیدہ طریق اس کامل مصلح کی لائف میں چمک رہا ہے جس کا نام محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ منہ