بآواز بلند تصدیق کی کہ ہم تک یہ سب پیغام پہنچائے گئے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ آسمان کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ اے خدا ان باتوں کا گواہ رہ اور پھر فرمایا کہ یہ تمام تبلیغ اس لئے مقرر کی گئی کہ شاید آئندہ سال میں تمہارے ساتھؔ نہیں ہونگا۔ اور پھر دوسری مرتبہ تم مجھے اس جگہ نہیں پاؤ گے۔ تب مدینہ میں جاکر دوسرے سال میں فوت ہوگئے اللّٰھم صلّ علیہ وبارک وسلم درحقیقت یہ وقت میں اصلاح کی وہ ہیچ ہے تو ان پادریوں کو فکر پڑی کہ گمراہوں کو رو باصلاح کرنا اور بدکاروں کو نیکی کے رنگ میں لانا جو اصل نشانی سچے نبی کی ہے۔ وہ جیسا کہ اکمل اور اتم طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہور میں آئی مسیح کی اصلاح میں کوئی بھی اس کی نسبت نہیں پائی جاتی تو انہوں نے اپنے دجّالی فریبوں کے ساتھ آفتاب پر خاک ڈالنا چاہا تو ناچار جیسا کہ پادری جیمس کیمرن لیس نے اپنے لیکچر میں شائع کیا ہے۔ جاہلوں کو اس طرح پر دھوکا دیا کہ وہ لوگ پہلے سے صلاحیت پذیر ہونے کے مستعد تھے اور بت پرستی اور شرک ان کی نگاہوں میں حقیر ٹھہر چکا تھا۔ لیکن اگر ایسی رائے ظاہر کرنے والے اپنے اس خیال میں سچے ہیں تو انہیں لازم ہے کہ اپنے اس خیال کی تائید میں ویسا ہی ثبوت دیں جیسا کہ قرآن کریم ان کے مخالف ثبوت دیتا ہے یعنی فرماتا ہے کہ۔۱؂ اور ان سب کو مردے قرار دے کر ان کا زندہ کیا جانا محض اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور جابجا کہتا ہے کہ وہ ضلالت کے زنجیروں میں پھنسے ہوئے تھے ہم نے ہی ان کو رہائی دی وہ اندھے تھے ہم نے ہی ان کو سوجاکھا کیا۔ وہ تاریکی میں تھے ہم نے ہی نور بخشا اور یہ باتیں پوشیدہ نہیں کہیں بلکہ قرآن ان سب کے کانوں تک پہنچا اور انہوں نے ان بیانات کا انکار نہ کیا اور کبھی یہ ظاہر نہ کیا کہ ہم تو پہلے ہی مستعد تھے قرآن کا ہم پر کچھ احسان نہیں۔ پس اگر ہمارے مخالفوں کے پاس کوئی مخالفانہ تحریر اپنے بیان کی تائید میں ایسی ہو جو قرآن کریم کے ہم پہلو تیرہ ۱۳۰۰سو برس سے چلی آتی ہے تو وہ پیش کردیں ورنہ ایسی باتیں صرف عیسائی سرشت کا افترا ہے اس سے زیادہ نہیں یہ تو جیمسؔ کا قول ہے کہ جو کتاب مذاہب عالم میں شائع ہوا ہے مگر