لوگ دین اسلام میں داخل ہوگئے۔ اور یہ آیتیں بھی نازل ہوگئیں کہ خدا تعالیٰ نے ایمان اور تقویٰ کو ان کے دلوں میں لکھ دیا اور
فسق اور فجور سے انہیں بیزار کر دیا اور پاک اور نیک اخلاق سے وہ متّصف ہوگئے اور ایک بھاری تبدیلی ان کے اخلاق
چرایا ہے کیونکہ ان کی یہ تحریریں اس وقت کی ہیں کہ جب حضرت عیسٰی کا
وجود بھی دنیا میں نہیں تھا۔ پس ناچار ماننا پڑا کہ چور عیسائی ہی ہیں چنانچہ پوٹ صاحب بھی اس بات کے قائل ہیں کہ ’’تثلیث افلاطون کے لئے ایک غلط خیال کی پیروی کا نتیجہ ہے۔ مگر اصل یہ
ہے کہ یونان اور ہند اپنے خیالات میں مرایا متقابلہ کے طرح تھے۔ قریب قیاس یہ ہے کہ یہ شرک کے انبارپہلے ہند سے وید ودیا کی صورت میں یونان میں گئے۔ پھر وہاں سے نادان عیسائیوں نے چرا
چرا کر انجیل پر حاشئے چڑھائے اور اپنا نامہ اعمال درست کیا۔‘‘
اب ہم اصلمعنوں کی طرف توجہ کرکے لکھتے ہیں کہ جبکہ ان تمام فرقوں میں سے ایک فرقہ دوسرے فرقہ کا مکذب ہے تو اس
میں کچھ شک نہیں کہ ہر ایک ان میں سے اپنی رائے میں دنیا کی اصلاح اس بات میں دیکھتا ہے کہ اس کے مخالف فرقہ کا اعتقاد نابود ہو۔ اور اس بات کا قائل ہے کہ اس کے مخالفؔ کا عقیدہ نہایت
خراب اور غیر صحیح ہے۔ پھر جبکہ ہریک فرقہ اپنے مخالف پر نظر ڈال کر اس خرابی کو مان رہا ہے تو اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہریک فرقہ کو بالضرورت اقرار
کرنا پڑا ہے کہ درحقیقت آپ کے ہاتھ سے دنیا کی عام اصلاح ظہور میں آئی۔ اور آپ درحقیقت مصلح اعظم تھے۔ ماسوا اس کے ہریک فرقہ کے محقق اس بات کا اقرار رکھتے ہیں کہ درحقیقت ان کے
مذہب کے لوگ اس زمانہ میں سخت بدچلن اور بدراہیوں میں مبتلا ہوگئے تھے۔ چنانچہ اس زمانہ کی بدچلنی اور خراب حالت کے بارے میں پادری فنڈل میزان الحق میں اور محقق پوٹ اپنی کتاب میں اور
پادری جیمس کیمرن لیس اپنے لیکچر مطبوعہ مئی ۱۸۸۲ ء میں اس بات کے قائل ہیں۔ ماسوا اس کے حقیقی نیکی اور راہ راست کو پہچاننے والے جانتے ہیں کہ یہ تمام فرقے ایک تاریکی کے گڑھے
میں پڑے