اور چلن اور روح میں واقعؔ ہوگئی تب ان تمام باتوں کے بعد سورۃ النصر نازل ہوئی جس کا ماحصل یہی ہے کہ نبوت کے تمام
اغراض پورے ہوگئے اور اسلام دلوں پر فتح یاب ہوگیا۔ تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام طور پر اعلان دے دیا کہ یہ سورت میری وفات کی طرف اشارہ کرتی ہے بلکہ اس کے بعد
ہوئے
ہیں* اور ان خداؤں میں سے کوئی بھی واقعی اور سچا خدا نہیں جن لوگوں کو ان نادانوں نے خدا سمجھ رکھا ہے کیونکہ واقعی طور پر خدا ہونے کی یہ نشانی تھی کہ اس کی عظمت اور جلال اس کے
واقعات زندگی سے ایسے طور سے ظاہر ہوتی ہو جیسا کہ آسمان اور زمین ایک سچے اور جلیل خدا کی عظمت ظاہر کر رہا ہے مگر ان عاجز اور مصیبت زدہ خداؤں میں یہ نشانی قطعاً مفقود ہے کیا
عقل سلیم اس بات کو قبول کرلے گی کہ ایک مرنے والا اور خود کمزور کسی پہلو سے خدا بھی ہے حاشا وکلا ہرگز نہیں بلکہ سچا خدا وہی خدا ہے جس کی غیر متبدل صفات قدیم سے آئینہ عالم میں
نظر آرہی ہیں اور جس کو ان باتوں کی حاجت نہیں کہ کوئی اس کا بیٹا ہو اور خودکشی کرے۔ تب لوگوں کو اس سے نجات ملے بلکہ نجات کا سچا طریق قدیم سے ایک ہی ہے جو حدوث اور بناوٹ سے
پاک ہے جس پر چلنے والے حقیقی نجات کو اور اس کے ثمرات کو اسی دنیا میں پالیتے ہیں۔ اور اس کے سچے نمونے اپنے اندر دیکھتے ہیں یعنی ؔ وہ سچا طریق یہی ہے کہ الٰہی منادی کو قبول
کرکے اس کے نقش قدم پر ایسا چلیں کہ اپنی نفسانی ہستی سے مر جائیں اور اسی طرح اپنے لئے آپ فدیہ دیں اور یہی طریق ہے جو خدا تعالیٰ نے ابتدا سے حق کے طالبوں کی فطرت میں رکھا ہے اور
قدیم سے اور جب سے کہ انسان بنایا گیا ہے اور اس روحانی قربانی کا سامان اس کو عطا کردیا گیا ہے اور اس کی فطرت
یہ اقرار پنڈت دیانند نے بھی اپنی ستیارتھ پرکاش میں کیا ہے اور پنڈت جی
قائل ہیں کہ آریہ ورت اُس زمانہ میں مورتی پوجن میں غرق تھا۔ منہ