بلانے کا حکم ہوا کہ جب اپنا کام پورا کر چکے تھے یعنی اس وقت کے بعد بلائے گئے جبکہ یہ آیت نازل ہو چکی کہ مسلمانوں
کے لئے تعلیم کا مجموعہ کامل ہوگیا اور جو کچھ ضروریات دینؔ میں نازل ہونا تھا وہ سب نازل ہو چکا اور نہ صرف یہی بلکہ یہ بھی خبر دی گئی کہ خدا تعالیٰ کی تائیدیں بھی کمال کو پہنچ گئیں اور
جوق در جوق
معجزہ نما تالاب سے واقف نہیں جو اسی زمانہ میں تھا اور کیا اسرائیل میں ایسے نبی نہیں گذرے جن کے بدن کے چھونے سے مُردے زندہ ہوئے پھر خدائی کی شیخی مارنے کے لئے
کون سے وجوہات ہیں جائے شرم!!!
اور اگرچہ ہندوؤں نے اپنے اوتاروں کی نسبت شکتی کے کام بہت لکھے ہیں اور خواہ نخواہ ان کو پرمیشر ثابت کرنا چاہا ہے مگر وہ قصے بھی عیسائیوں کے
بے ہودہ قصوں سے کچھ کم نہیں ہیں اور اگر فرض بھی کریں کہ کچھ ان میں سے صحیح بھی ہے۔ تب بھی عاجز انسان جو ضعف اور ناتوانی کا خمیر رکھتا ہے۔ پرمیشر نہیں ہوسکتا اور احیاء حقیقی تو
خود باطل اور الٰہی کتابوں کے مخالف۔ ہاں اعجازی احیاء جسؔ میں دنیا کی طرف رجوع کرنا اور دنیا میں پھر آباد ہونا نہیں ہوتا۔ ممکن تو ہے مگر خدائی کی دلیل نہیں کیونکہ اس کے مدعی عام ہیں
مردوں سے باتیں کرا دینے والے بہت گذرے ہیں مگر یہ طریق کشف قبور کے قسم میں سے ہے۔ ہاں ہندوؤں کو عیسائیوں پر ایک فضیلت بے شک ہے۔ اس کے بلاشبہ ہم قائل ہیں اور وہ یہ ہے کہ وہ بندوں
کو خدا بنانے میں عیسائیوں کے پیشرو ہیں۔ انہیں کے ایجاد کی عیسائیوں نے بھی پیروی کی۔ ہم کسی طرح اس بات کو چھپا نہیں سکتے کہ جو کچھ عیسائیوں نے عقلی اعتراضوں سے بچنے کے لئے
باتیں بنائی ہیں یہ باتیں انہوں نے اپنے دماغ سے نہیں نکالیں بلکہ شاستروں اور گرنتھوں میں سے چرائی ہیں یہ تمام تودہ طوفان پہلے ہی سے برہمنوں نے کرشن اور رام چندر کے لئے بنا رکھا تھا جو
عیسائیوں کے کام آیا پس یہ خیال بدیہی البطلان ہے کہ شائد ہندوؤں نے عیسائیوں کی کتابوں میں سے