سے بلکہ اپنے اقراروں سے مان لیا ہے پس اس سے ببداؔ ہت نتیجہ نکلا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم درحقیقت ایسے وقت میں آئے تھے جس وقت میں ایک سچے اور کامل نبی کو آنا چاہیئے۔ پھر جب ہم دوسرا پہلو دیکھتے ہیں کہ آنجناب صلعم کس وقت واپس بلائے گئے تو قرآن صاف اور صریح طور پر ہمیں خبر دیتا ہے کہ ایسے وقت میں تعلیم سے ایسے مطابق پڑے ہیں کہ ہم بجز اس کے اور کوئی بھی رائے ظاہر نہیں کرسکتے کہ یہ تمام ہندوؤں کے عقیدوں کی نقل کی گئی ہے۔ ہندوؤں میں ترے مورتی کا بھی عقیدہ تھا جس سے برھما۔ بشن۔ مہادیو کا مجموعہ مراد ہے۔ سو تثلیث ایسے عقیدے کا عکس کھینچا ہوا معلوم ہوتا ہے مگر عجیب بات یہ ہے کہ جو کچھ مسیح کے خدا بنانے کے لئے اور عقلی اعتراضوں سے بچنے کے لئے عیسائی لوگ جوڑ توڑ کررہے ہیں اور مسیح کی انسانیت کو خدائی کے ساتھ ایسے طور سے پیوند دے رہے ہیں جس سے ان ؔ کی غرض یہ ہے کہ کسی طرح عقلی اعتراضوں سے بچ جائیں اور پھر بھی وہ کسی طرح بچ بھی نہیں سکتے اور آخرا سرار الٰہی میں داخل کر کے پیچھا چھوڑاتے ہیں بعینہٖ یہی نقشہ ان ہندوؤں کا ہے جو رام چندر اور کرشن کو ایشر قرار دیتے ہیں یعنی وہ بھی بعینہٖ وہی باتیں سناتے ہیں جو عیسائی سنایا کرتے ہیں اور جب ہریک پہلو سے عاجز آجاتے ہیں۔ تب کہتے ہیں کہ یہ ایک ایشر کا بھید ہے اور انہیں پر کھلتا ہے جو جوگ کماتے اور دنیا کو تیاگتے اور تپسیاکرتے ہیں لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ یہ بھید تو اسی وقت کھل گیا جبکہ ان جھوٹے خداؤں نے اپنی خدائی کا کوئی ایسا نمونہ نہ دکھلایا جو انسان نے نہ دکھلایا ہو۔ سچ ہے کہ گرنتھوں میں یہ قصے بھرے پڑے ہیں کہ ان اوتاروں نے بڑی بڑی شکتی کے کام کئے ہیں مردے جلائے اور پہاڑوں کو سر پر اٹھا لیا۔ لیکن اگر ہم ان کہانیوں کو سچ مان لیں تو یہ لوگ خود قائل ہیں کہ بعض ایسے لوگوں نے بھی کرشمے دکھلائے جنہوں نے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔ مثلاً ذرہ سوچ کر دیکھ لو کہ کیا مسیح کے کام موسیٰ کے کاموں سے بڑھ کر تھے بلکہ مسیح کے نشانوں کو تو تالاب کے قصہ نے خاک میں ملا دیا کیا آپ لوگ