یعنی وہ بہت ہی برکت والا ہے۔ جس نے قرآن شریف کو اپنے بندہ پر اس غرض سے اتارا کہ تمام جہان کو ڈرانے والا ہو یعنی
تا ان کی بدراہی اور بدعقیدگی پر ان کو متنبہ کرے۔ پس یہ آیت بصراحت اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن کایہی دعویٰ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں تشریف لائے تھے جبکہ تمام دنیا
اور تمام قومیں بگڑ چکی تھیں اور مخالف قوموں نے اس دعویٰ کو نہ صرف اپنی خاموشی
بنایا جیسا کہ قرآن کریم اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے دیکھو آیت ۱
الجزو نمبر ۱۰ یعنیؔ یہود نے
کہا کہ عزیر خدا کا بیٹا ہے اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے یہ سب ان کے منہ کی باتیں ہیں یہ لوگ ان لوگوں کی ریس کرتے ہیں جو ان سے پہلے انسانوں کو خدا بناکر کافر ہوگئے۔ خدا
کے ماروں نے کہاں سے کہاں پلٹا کھایا۔ سو یہ آیت صریح ہندیوں اور یونانیوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور بتلا رہی ہے جو پہلے انسانوں کو انہیں لوگوں نے خدا قرار دیا۔ پھر عیسائیوں کی بدقسمتی
سے یہ اصول ان تک پہنچ گئے۔ تب انہوں نے کہا کہ ہم ان قوموں سے کیوں پیچھے رہیں اور ان کی بدبختی سے توریت میں پہلے سے یہ محاورہ تھا کہ انسانوں کو بعض مقامات میں خدا کے بیٹے قرار
دیا تھا بلکہ خدا کی بیٹیاں بھی بلکہ بعض گذشتہ لوگوں کو خدا بھی کہا گیا تھا۔ اس عام محاورہ کے لحاظ سے مسیح پر بھی انجیل میں ایسا ہی لفظ بولا گیا پس وہی لفظ نادانوں کے لئے زہر قاتل ہوگیا تمام
بائبل دوہائی دے رہی ہے کہ یہ لفظ ابن مریم سے کچھ خاص نہیں ہریک نبی اور راستباز پر بولا گیا ہے بلکہ یعقوب نخست زادہ کہلایا ہے مگر بدقسمت انسان جب کسی پیچ میں پھنس جاتا ہے تو پھر اس
سے نکل نہیں سکتا پھر عجیب تر یہ کہ جو کچھ مسیح کی خدائی کے لئے قواعد بیان کئے گئے ہیں کہ وہ خدا بھی ہے انسان بھی یہ تمام قواعد کرشن اور رام چندر کے لئے ہندوؤں کی کتابوں میں پہلے
سے موجود ہیں اور اس نئی