بغیر پانی کے نشوونما نہیں کر سکتا۔ اسی طرح راستباز انسان کے کلمات طیّبہ جو اس کے منہ سے نکلتے ہیں اپنی پوری سرسبزی دکھلا نہیں سکتے اور نہ نشوونما کر سکتے ہیں جب تک وہ پاک چشمہ ان کی جڑوں کو استغفار کے نالے میں بہہ کر تر نہ کرے سو انسان کی روحانی زندگی استغفار سے ہے جس کے نالے میں ہوکر حقیقی چشمہ انسانیت کی جڑوں تک پہنچتا ہے اور خشک ہونے اور مرنے سے بچا لیتا ہے۔ جس مذہب میں اس فلسفہ کا ذکر نہیں وہ مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں۔ اور جس شخص نے نبی یا رسول یا راستباز یا پاک فطرت کہلا کر اس چشمہ سے منہ پھیرا ہے۔ وہ ہرگز خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور ایسا آدمی خدا تعالیٰ سے نہیں بلکہ شیطان سے نکلا ہے کیونکہ شیط مرنے کو کہتے ہیں پس جس نے اپنے روحانی باغ کو سرسبز کرنے کے لئے اس حقیقی چشمہ کو اپنی طرف کھینچنا نہیں چاہا اور استغفار کے نالے کو اس چشمہ سے لبالب نہیں کیا وہ شیطان ہے یعنی مرنے والا ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ کوئی سرسبز درخت بغیر پانی کے زندہ رہ سکے۔ ہریک متکبر جو اس زندگی کے چشمہ سے اپنے روحانی درخت کو سرسبز کرنا نہیں چاہتا وہ شیطان ہے اور شیطان کی طرح ہلاک ہوگا۔ کوئی راستباز نبی دنیا میں نہیں آیا جس نے استغفار کی حقیقت سے منہ پھیرا اور اس حقیقی چشمہ سے سرسبز ہونا نہ چاہا۔ ہاں سب سے زیادہ اس سرسبزی کو ہمارے سید و مولیٰ ختم المرسلین فخر الاولین والآخرین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگا اس لئے خدا نے اس کو اس کے تمام ہم منصبوں سے زیادہ سرسبز اور معطر کیا۔ پھر ہم اپنے پہلے مقصد کی طرف عود کر کے لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور قرآن کریم کی حقّاؔ نیت پر اس دلیل سے نہایت اعلیٰ