واجلٰی ثبوت پیدا ہوتا ہے کہ آنجناب علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسے وقت میں دنیا میں بھیجے گئے کہ جب دنیا زبان حال سے ایک
عظیم الشان مصلح کو مانگ رہی تھی اور پھر نہ مرے اور نہ مارے گئے جب تک کہ راستی کو زمین پر قائم نہ کردیا*
اس جگہ بظاہر ایک اعتراض ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ایک بُت پرست کہے
کہ گو ہم قبول کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے بت پرستی کا استیصال ہوا لیکن ہم یہ قبول نہیں کرتے کہ بت پرستی بری تھی بلکہ ہم کہتے ہیں کہ یہی راہ راست تھا جس سے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا۔ پس اس سے لازم آیا کہ آپ نے دنیا کی اصلاح نہ کی بلکہ صلاحیت کی راہ کو معدوم کردیا۔ ایسا ہی اگر ایک مجوسی کہے کہ یہ تو میں مانتا ہوں کہ
درحقیقت آنحضرتؐ نے آتش پرستی کی رسم کو نابود کر دیا اور آفتاب پرستی کا بھی نام و نشان کھو دیا مگر میں یہ بات نہیں مانوں گا کہ یہ کام اچھا کیا بلکہ وہی سچی راہ تھی جس کو مٹا دیا۔ ایسا ہی
اگر ایک عیسائی کہے کہ گو میں مانتا ہوں کہ آنحضرتؐ نے عرب سے عیسائی عقیدہ کی بنیاد اکھیڑ دی مگر میں اس بات کو اصلاح کی مد میں داخل نہیں کر سکتا کہ جو عیسیٰ اور اس کی والدہ کی
پرستش سے منع کیا گیا اور صلیبوں اور تصویروں کو توڑ دیا گیا یہ کارخیر تھا بلکہ وہی راہ اچھی تھی جس کی مخالفت کی گئی۔ اسی طرح اگر قمار باز اور شراب خوار اور زانی اور لڑکیوں کے قتل
کرنے والے اور بخیل یا بے جا خرچ کرنے والے اور طرح طرح کے ظلموں اور خیانتوں کو پسند کرنے والے اور چور اور اچکے اور دھاڑوی اپنے اپنے دلائل پیش کریں اور کہیں کہ اگرچہ ہم قبول
کرتے اور مانتے ہیں کہ اسلام میں ہمارے فرقوں کا بہت ہی عمدہ تدارک کیا گیا ہے اور ہزارہا چوروں کو سخت سخت سزائیں دے کر اکثر زمین کے حصہ سے ان کا شور و شر مٹا دیا۔ لیکن ہماری
دانست میں ان پر ناحق ظلم کیا گیا وہ جان مار کر چوری کرتے اور خود خطرہ میں پڑ کر ڈاکہ مارتے تھے پس ان کا مال اس قدر محنت کے بعد حلال کے ہی حکم میں تھا ناحق ان کو ستایا گیا اور ایک
پرانی رسم جو عبادت میں داخل تھی مٹا دی سو ان سب فرقوں کا جواب یہ ہے کہ یوں تو کوئی شخص بھی ان فرقوں میں سے اپنے منہ سے اپنے تئیں قصور وار نہیں ٹھہرائے گا