مدد کر اور میری سرسبزی میں کمی نہ ہونے دے اور میرے پھلوں کا وقت ضائع ہونے سے بچا یہی حال راستبازوں کا ہے۔ روحانی سرسبزی کے محفوظ اور سلامت رہنے کے لئے یا اس سرسبزی کی ترقیات کی غرض سے حقیقی زندگی کے چشمہ سے سلامتی کا پانی مانگنا بھی وہ امر ہے جس کو قرآن کریم دوسرے لفظوں میں استغفار کے نام سے موسوم کرتا ہے قرآن شریف کو سوچو اور غور سے پڑھو استغفار کی اعلیٰ حقیقت پاؤ گے اور ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ مغفرت لُغت کی رو سے ایسے ڈھانکنے کو کہتے ہیں جس سے کسی آفت سے بچنا مقصود ہے۔ مثلاً پانی درختوں کے حق میں ایک مغفرت کرنے والا عنصر ہے یعنی ان کے عیبوں کو ڈھانکتا ہے۔ یہ بات سوچ لو کہ اگر کسی باغ کو برس دو برس بالکل پانی نہ ملے تو اس کی کیا شکل نکل آئے گی کیا یہ سچ نہیں کہ اس کی خوبصورتی بالکل دور ہو جائے گی اور سرسبزی اور خوشنمائی کا نام و نشان نہیں رہے گا اور وہ وقت پر کبھی پھل نہیں لائے گا اور ؔ اندر ہی اندر جل جائے گا۔ اور پھول بھی نہیں آئیں گے بلکہ اس کے سبز سبز اور نرم نرم لہلہاتے ہوئے پتے چند روز ہی میں خشک ہوکر گر جائیں گے اور خشکی غالب ہوکر مجذوم کی طرح آہستہ آہستہ اس کے تمام اعضاء گرنے شروع ہوجائیں گے یہ تمام بلائیں کیوں اس پر نازل ہوں گی؟ اس وجہ سے کہ وہ پانی جو اس کی زندگی کا مدار تھا اس نے اس کو سیراب نہیں کیا اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے ۱؂ ۔یعنی پاک کلمہ پاک درخت کی مانند ہے پس جیسا کہ کوئی عمدہ اور شریف درخت