ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز اس دنیا سے کوچ نہ کیا جب تک کہ دین اسلام کو
کے چوتھے معلقہ میں
عمرو بن کلثوم تغلبی کی طرف سے درج ہے۔ یہ بات کسی تاریخ دان پر پوشیدہ نہیں کہ بنی تغلب عیسائی تھے اور وہی تمام عرب میں سب سے بڑھ کر فسق و فجور اور ظلم اور زیادتی میں شمار کئے
گئے تھے چنانچہؔ یہ قصیدہ بنی تغلب کے چال چلن پر پورا گواہ ہے کہ کیونکر وہ اول درجہ کے خونی اور جنگجو اور کینہ دار اور فاسق اور شراب خوار اور شہوات نفسانیہ کے پورا کرنے کے
لئے بے جا خرچ کرنے والے اور اپنے فسق و فجور پر کھلا کھلا ناز کرنے والے تھے اور ہم اس جگہ صرف دو شعر تغلبی مذکور کے بطور نمونہ کے لکھتے ہیں اور یہ سبعہ معلقہ کے قصیدہ خامسہ
میں موجود ہیں جس کا جی چاہے دیکھ لے اور وہ یہ ہیں
الا حُبّی بصحنک فاصحبینا
و لا تُبقی خُمور الاندرینا
و کاسٍ قد شربت ببعلبک
و اُخرٰی فی دمشقٍ و قاصرینا
یعنی اے میری معشوقہ
(یہ اس کی معشوقہ درحقیقت اس کی والدہ ہی تھی) شراب کا پیالہ لے کر اٹھ اور قصبہ ’’اندرین‘‘ میں جس قدر شرابیں بنائی جاتی ہیں وہ سب مجھے پلا دے اور ایسا کر کہ شراب کے ذخیروں
میں کچھ بھی باقی نہ رہ جائے پھر کہتا ہے کہ میں نے مقام بعلبک میں بہت شراب پی ہے اور پھر اسی قدر میں نے دمشق میں بھی پی اور ایسا ہی مقام قاصرین میں بھی پیتا رہا۔ سچ ہے کہ عیسائیوں کو
بجز شراب پینے کے اور کیا کام تھے یہی تو وہ دین کی جزو اعظم ہے جو عشاء ربّانی میں بھی داخل ہے۔ لیکن عجیب تر یہ ہے کہ یہ عیسائی اپنی حقیقی والدہ پر عاشق ہوگیا۔ اور ناظرین کو معلوم
رہے کہ اندرین بلاد شام میں ایک قصبہ کا نام ہے۔ جس میں حضرات عیسائی ہر قسم کی شراب بناتے تھے اور پھر ان شرابوں کو دور دور کے ملکوں میں لے جاتے تھے اور ان کے مذہب میں شراب پینا
صرف جائز ہی نہیں تھا بلکہ ہندوؤں کے بام مار گی فرقہ کی طرح مذہب کی بھاری جُزو تھی جس کے بغیر کوئی عیسائی نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لئے قدیم سے عیسائیوں کو شراب کے ساتھ بہت کچھ
تعلقات رہے ہیں اور اس زمانہ میں بھی انواع اقسام کی شرابوں کے موجد عیسائی لوگ ہی ہیں۔ یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ عرب کے ملک میں بھی عیسائی لوگ ہی شراب لے گئے اور ملک کو تباہ کر دیا۔
معلوم ہوتا