نبی کے آنے کی علّت غائی ہوتے ہیں۔ اب دیکھو یہ آیت کس زور شور سے بتلا رہی
تو اسؔ نے فی الفور یہ دو شعر پڑھ کر
سنا دیئے۔
اذا ما ندیمی علّنی ثم علّنی
ثلٰث زجاجات لھن ھدیر‘
جعلت اجرّ الذیل منّی کانّنی
علیک امیر المؤمنین امیر‘
یعنی جب میرے ساقی نے تین ایسی بوتلوں کی مجھے شراب پلائی جن
کے شراب نکالنے کے وقت ایک خوش آواز تھی تو میں مستی سے ایسا دامن کشاں چلنے لگا کہ گویا تیرے پر یا امیر المومنین میں امیر ہوں۔ غرض چونکہ اکابر اسلام نے مسلمان ہونے کے لئے کبھی
کسی پر جبر نہیں کیا اس لئے بجز تبلیغ کے اور کچھ بھی اس پر رنجش ظاہر نہ کی گئی اور وہ مروانی ملوک کے دربار میں ہزارہا روپیہ کا انعام پاتا رہا اور وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے
زمانہ میں ہی پیدا ہوا تھا اور ہر چہار خلیفہ رضی اللہ عنہم کا اس نے زمانہ پایا تھا اور بلاد شام میں رہتا تھا اور خوب بڈھا ہوکر فوت ہوا۔ اس نے یہ نہایت عمدہ کام کیا کہ اپنے اشعار میں عیسائی چال
چلن کا نقشہ کھینچ کر دکھلا دیا ہے اور نہایت صاف گواہی دے دی کہ اس وقت کے عیسائی لوگ نہایت مکروہ بدچلنیوں میں گرفتار تھے اور شراب خوری اور ہر قسم کی بدکاری ان پر غالب آگئی تھی
اور چونکہ عیسائی مذہب کا اصل مبدء اور منبع بلاد شام ہی ہے جن بلاد کا وہ متوطن تھا اور جن کا نقشہ کھینچ کر اس نے پیش کیا ہے اس سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ کفارہ کا مسئلہ کس قدر
جھوٹا اور نابکار فریب ہے جس کا ابتدائے زمانہ میں ہی یہ اثر ثابت ہوا کہ عیسائی لوگ ہر قسم کے فسق و فجور میں مبتلا ہوگئے۔ اخطل کا زمانہ حضرت مسیح کے زمانہ سے کچھ بہت دور نہیں تھا
صرف چھ سو ۶۰۰برس گذرے تھے مگر اخطل کی گواہی اور اس کے اپنے اقرار سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت کے عیسائی اپنی بدچلنیوں کی رو سے بت پرستوں سے بھی زیادہ گرے ہوئے تھے
پس جبکہ تازہ تازہ زمانہ میں کفارہ نے یہ اثر کیا تو وہ لوگ سخت
بے وقوف ہیں کہ اب انیسویں صدی میں اس آزمودہ کفارہ سے کوئی بہتری کی امید رکھتے ہیں۔ اس زمانہ کی عیسائیت کی چال و
چلن کے متعلق ایک وہ بھی قصیدہ ہے جو سبعہ معلقہ