تنزیل قرآن اور تکمیلؔ نفوس سے کامل نہ کیا گیا* اور یہی ایک خاص علامت منجانب اللہ
ہے کہ بت پرستی کے خیال کو
بھی عیسیٰ پرستی کے خیال نے ہی قوت دی اور عیسائیوں کی ریس سے وہ لوگ بھی مخلوق پرستی پر زیادہ جم گئے۔ یاد رہے کہ عرب کے جنگلی لوگ شراب کو جانتے بھی نہیں تھے کہ کس بلا کا نام
ہے مگر جب حضرات عیسائی وہاں پہنچے اور انہوں نے بعض نومریدوں کو بھی تحفہ دیا۔ تب تو یہ خراب عادت دیکھا دیکھی عام طور پر پھیل گئی اور نماز کے پانچ وقتوں کی طرح شراب کے پانچ
وقت مقرر ہوگئے۔ یعنی جاشریہ ۱ صبح قبل طلوع آفتاب کی شراب ہے۔ صبوح۲ جو بعد طلوع کے شراب پی جاتی ہے۔ غبوق۳ جو ظہر اور عصر کی شراب کا نام ہے۔ قیل ۴ جو دوپہر کی شراب کا نام
ہے۔ فحم ۵ جو رات کی شراب کا نام ہے۔ اسلام نے ظہور فرما کر یہ تبدیلی کی۔ جو ان پانچ وقتوں کے شرابوں کی جگہ پانچ نمازیں مقرر کر دیں اور ہریک بدی کی جگہ نیکی رکھ دی اور مخلوق پرستی
کی جگہ خدا تعالیٰ کا نام سکھا دیا۔ اس پاک تبدیلی سے انکار کرنا کسی سخت بدذات کا کام ہے نہ کسی سعید انسان کا کیا کوئی مذہب ایسی بزرگ تبدیلیؔ کا نمونہ پیش کرسکتا ہے ہرگز نہیں اور اس
وقت ہم عیسائیوں کے اقراری اشعار میں سے اسی پر کفایت کرتے ہیں۔ لیکن اگر کسی نے چوں چرا کیا تو کئی سو اسی طور کے شعر ان کی نذر کیا جائے گا مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ اس موقعہ پر
کوئی بھی نہیں بولے گا۔ کیونکہ ایسے ہزارہا شعر جو جرائم ورزی کے اقرار پر مشتمل ہیں کیونکر چھپ سکتے ہیں۔
اب کوئی پادری ٹھاکر داس صاحب سے جنہوں نے عدم ضرورت قرآن پر ناحق
بے جا تعصب سے یا وہ گوئی کی ہے پوچھے کہ کیا اب بھی ضرورت قرآن کے بارے میں آپ کو اطلاع ہوئی یا نہیں یا کیا ہم نے ثابت نہیں کر دیا کہ قرآن اس وقت نازل ہوا کہ جب تمام عیسائی
جذامیوں کی طرح گل سڑ گئے
خدا ؔ تعالیٰ نے قرآن کریم میں صحابہ کو مخاطب کیا کہ میں نے تمہارے دین کو کامل کیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کی اور آیت کو اس طور سے نہ فرمایا کہ اے نبی
آج میں نے قرآن کو کامل کر دیا۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ تا ظاہر ہو کہ صرف قرآن کی تکمیل نہیں ہوئی بلکہ ان کی بھی تکمیل ہو گئی کہ جن کو قرآن پہنچایا گیا اور رسالت کی علّت غائی کمال تک پہنچ
گئی۔ منہ