کافر ٹھہرے لیکن اگر اس وجہ سے کافر کہا جاتا ہے کہ ہم ملائک کا ایسا نزول نہیں مانتے جس سے آسمان خالی ہو جائیں بلکہ قدرت قادر سے ایک وجود ان کا آسمان میں بنا رہتا ہے اور ایک وجود خلق جدید کی طرح زمین میں ظاہر ہوتا ہے انسان کی شکل پر یا کسی اور کی شکل پر سو اس بنا پر آپ کو بہت سے اکابر علماء کو کافر بنانا پڑے گا اور یہی مذہب مدارج النبوت میں شیخ عبد الحق صاحب دہلوی نے بیان کیا ہے اور آسمانوں کے خالی ہونے کا آپ لوگوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں صرف افغانی تحکم ہے اور بڑے بڑے مفاسد اس سے پیش آتے ہیں اور بہت سی حدیثوں اور آیتوں سے انکار کرنا پڑتا ہے۔ پس یہ کیوں نہ کہیں کہ وہ بطور خارق عادت زمین پر بھی نازل ہو جاتے ہیں اور نزول بھی ہوتا ہے اور صعود بھی اور بایں ہمہ آسمان پر بھی موجود رہتے ہیں واللّٰہ علٰی کلّ شیء قدیر اورؔ اگر یہ اعتراض ہے کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور وہ کلمہ کفر ہے تو بجز اس کے کیا کہیں کہ *** اللّٰہ علی الکاذبین المفترین۔ اور اگر یہ اعتراض ہے کہ کسی نبی کی توہین کی ہے اور وہ کلمہ کفر ہے تو اس کا جواب بھی یہی ہے کہ *** اللّٰہ علی الکاذبین۔ اور ہم سب نبیوں پر ایمان لاتے ہیں اور تعظیم سے دیکھتے ہیں بعض عبارات جو اپنے محل پر چسپاں ہیں وہ بہ نیت توہین نہیں بلکہ بتائید توحید ہیں وانما الاعمال بالنیات۔ اور تمہارے جیسے عقل والوں نے صاحب تقویت الایمان کو بھی اِسی خیال سے کافر کہا تھا کہ بعض کلمات ان کو اس کتاب میں ایسے معلوم ہوئے کہ گویا وہ انبیاء کی توہین کرتا ہے اور چوروں چماروں کو ان کے برابر جانتا ہے۔ ہماری طرح ان کا بھی یہی جواب تھا کہ انما الاعمال بالنیات۔ یہی بخاری کی پہلی حدیث ہے اگر یہی آپ لوگوں کو یاد نہ رہی تو کیا یاد ہوگا اور اگر وجہ کفر یہ سمجھی گئی ہے کہ ہم نے نجوم کو عالم ارضی میں باذنہ تعالٰی مؤثر سمجھا ہے تو حیف ہے آپ کے ایسے خیال پر۔ ہم ہر ایک چیز کی خاصیت کے قایل ہیں یہاں تک کہ مکھی کے بھی لیکن باذن اللہ تعالیٰ اور بغیر اس کے اذن کے ہم کسی چیز کو کچھ چیز نہیں سمجھتے اور تاثیر نجوم کا شاہ ولی اللہ صاحب کو بھی اقرار ہے۔ دیکھو حجّۃ اللّٰہ البالغہ اور فیوض الحرمین پھر تعجب کہ اب تک ان کو کیوں کافر نہیں ٹھہرایا گیا درحقیقت افغان بڑے ہی بہادر ہوتے ہیں خداتعالیٰ کے ساتھ بھی لڑنے سے نہیں ڈرتے۔ عجب بات ہے کہ خداتعالیٰ تو فرماتا ہے کہ جو السلام علیکم کہے اس کو کافر مت سمجھو اور پھر افغان ان لوگوں کو کافر ٹھہرا رہے ہیں جو دن رات اسلام کے لئے جان دینے کو تیار ہیں۔ خیر مرنے کے بعد یہ سب فیصلے ہو جائیں گے خداتعالیٰ ہمارے دلوں کو دیکھ رہا ہے بجز اس کے کیا کہیں کہ ہم وہ لوگ ہیں جن کا مقولہ ہے لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ اٰمنا باللّٰہ و ملٰٓئکتہ و رسلہ و کتبہ والجنۃ والنار والبعث بعد الموت وآثرنا القراٰن کتابا و محمدًا صلی اللّٰہ علیہ وسلم نبیًّا و لا ندعی النبوۃ