اس کے گروہ کی ذلت نہیں بلکہ عزت ہوئی اور اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو اے قادر خدا اس کا عذاب میرے پر میری آنکھوں پر
میرے جسم پر میری عزت پر میری اولاد پر بہت جلد سال* کے اندر وارد کر اور ہم لوگ ہریک اقرار پر آمین کہیں گے۔ تب اسی وقت پانچ سو روپیہ شیخ محمد حسین کی ضمانت پر ان کو دے دیا جائے
گا اگر سال کے اندر شیخ محمد حسین بٹالوی ان بلاؤں سے بچ گئے تو وہ روپیہ ان کی ملک ہو جائے گا۔ اگر آپ لوگ اس طریق کو اختیار نہ کریں اور بدگوئی سے باز نہ آویں تو جائے شرم ہے اور یاد
رہے کہ مباہلہ کے ایک سال کے اندر ہی خداتعالیٰ نے برکت پر برکت ہم پر نازل کی۔ اس کی خاص توفیق اؔ ور تائید پر عمدہ عمدہ کتابیں تالیف ہوئیں۔ صدہا معارف و دقائق قرآن کھلے اور کتابوں کے
چھپنے اور ہمارے سلسلہ کی کاروائیوں کے لئے ہزارہا روپیہ آیا اور ہزارہا نئے لوگ جان و مال فدا کرنے والے ہماری جماعت میں داخل ہوئے۔ پس لازم ہوگا کہ شیخ محمد حسین اپنی قسم کے وقت ان
سب باتوں کو جمع کر کے ان کا انکار کریں۔
اے غزنوی لوگو بہتر تو یہ ہے کہ باز آ جاؤ اور خداتعالیٰ سے ڈرو اور اس سے لڑائی مت کرو جس چراغ کو وہ آپ ہی روشن کرے تم اس کو بجھا نہیں
سکتے۔ پس فولادی قلعہ کے ساتھ ٹکریں مت مارو کہ تمہاری ٹکروں سے قلعہ ہرگز نہیں ٹوٹے گا۔ آخر نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے ہی سر پاش پاش ہو جائیں گے کیا تمہیں ذرا خوف نہیں کہ مسلمانوں کو
کافر بناتے اور کلمہ گوؤں کا بے ایمان نام رکھتے ہو۔ بتلاؤ کہ عملی حالت میں ہم اور تم میں کیا فرق ہے کیا ہم کوئی شرک کا کام کرتے ہیں۔ کیا نمازوں کو چھوڑ دیا یا روزہ اور دیگر ارکان اسلام سے
منکر ہو گئے ہیں یا حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا دیا ہے اور کچھ تو بتلاؤ کہ عملی حالت اور اسلام کے ضروری عقائد ہم میں اور تم میں کیا فرق ہے۔ ہاں اگر مسیح کی وفات کے عقیدہ کی وجہ
سے ہمیں کافر کہا جاتا ہے تو امام مالک کو بھی کافر بناؤ کہ ان کا عقیدہ بھی یہی تھا جس سے رجوع ثابت * * نہیں۔ اور امام بخاری کا بھی یہی عقیدہ تھا۔ اگر یہ عقیدہ نہ ہوتا تو کیوں وہ آیت فلما
توفیتنی کی شرح کے وقت تائید حدیث کیلئے ابن عباس کا یہ قول لاتا متوفیک ممیتک پس اس حساب سے امام بخاری بھی کافر ہوئے اور یہی عقیدہ ابن قیم نے مدارج السالکین میں ظاہر کیا ہے پس بقول
تمہارے ابن قیم بھی کافر ہے اور معتزلہ کا یہی عقیدہ ہے پس وہ تمام لوگ
* صلحاء کی سنت قدیمہ سے ثابت ہے کہ مباہلہ کی غایت میعاد ایک سال تک ہوتی ہے سو ہم بدیہی ثبوت اپنے پاس رکھتے
ہیں کہ جن برکات کوہم نے اپنی نسبت لکھا ہے وہ ایک سال کے اندر ہی ہم پر وارد ہوئیں اور میاں عبدالحق کا جب سارا سال نحوستوں اور گردشوں میں گذرا تو سال کے بعد پندرھویں مہینہ پر مرتے
مرتے یہ بات بنانا چاہی کہ آتھم ۵ ستمبر ۱۸۹۴ ء کو نہیں مرا یہی مباہلہ کا اثر ہے مگر بدقسمتی سے اس میں بھی جھوٹا نکلا۔ منہ
** نوٹ:مجمع البحار میں جو ایک معتبر اہل حدیث کی کتاب
ہے لکھا ہے وقال مالک ان عیسی مات مالک نے کہا ہے کہ عیسیٰ مر گیا ہے اور بیان مفصل اس کا ہمارے رسالہ اتمام الحجۃ میں درج ہے۔ منہ