پہنچا دیا اور اپنی نعمت کو ان پر پورا کر دیا اور یہی دو رکن ضروری ہیںؔ جو ایک کہ وہ اسی عورتوں کے معاملہ میں ایک مرتبہ کنیسہ دمشق میں قید بھی کیا گیا اور یہ الزام لگایا گیا کہ وہ عیسائی عورتوں کی پاک دامنی کا قائل نہیں ہے چنانچہ ایک شریف اور معزز مسلمان کی فرمائش سے دمشق کے قسیس نے اس کو رہا کر دیا لیکن اخطلنے تادم مرگ اپنی رائے کو ہرگز تبدیل نہیں کیا چنانچہ عیسائی عورتوں کی نسبت اس کے اشعار اب تک زبان زد خلائق ہیں۔ اسی کتاب کے صفحہ ۳۳۹ میں اخطلکی لائف میں لکھا ہے کہ وہ اپنے اشعار میں شراب کی بہت تعریف کرتا تھا اور شراب کے فوائد پر وہ خوب مطلع اور تجربہ کار تھا۔ پھر اس کی لائف میں صفحہ ۳۳۷ میں لکھا ہے کہ اخطل ایک پکا عیسائی تھا اور اپنے دین پر مضبوط پنجہ مارا ہوا تھا اور گرجا کے وصایا کو خوب یاد رکھا ہوا تھا اور صلیب کو اپنے سینہ پر ہر وقت لٹکائے رکھتا تھا اسی لئے اس کا نام لوگوں میں ذوالصلیب مشہور تھا۔ پھر اسی صفحہ میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ سلطان عبد الملک بن مروان نے جس کے دربار میں یہ ملازم بھی تھا اس کو کہا کہ تو مسلمان ہو جا تو اس نے جواب دیا کہ ’’اگر شراب پینا میرے لئے حلال کر دو اور رمضان کے روزے بھی مجھے معاف ہو جائیں تو میں مسلمان ہونے کیلئے تیار ہوں۔‘‘ دیکھو ابھی کہا تھا کہ یہ پکا عیسائی اور ذوالصلیب اس کا نام ہے۔ اور اب یہ بھی لکھ دیا کہ یہ شخص ایک شراب کے پیالے پر عیسائی مذہب کو فروخت کرنے کے لئے تیار تھا۔ غرض اس کی لائف میں یہی لکھا ہے کہ یہ ایک شراب خوار آدمی تھا اور اس بات کا اس کو اپنے شعروں میں خود اقرار ہے کہ یہ بیگانہ عورتوں سے بالکل پرہیز نہیں کر سکتا تھا اور نیز یہ بھی اقرار ہے کہ اس زمانہ کے عیسائی مردوں اور عورتوں کا عموماً چال چلن اچھا نہیں تھا اور ایک خفیہ بدکاری ان میں جاری تھی۔ ہاں اس میں ایک بڑی دلیری یہ تھی کہ یہ بڑی جرأت کے ساتھ عیسائیوں کے فسق و فجور کو ظاہر کرتا اور ان کے گرجاؤں کو بدکاری کی جگہ بتلاتا تھا اور اپنی بدچلنی کو بھی نہیں چھپاتا تھا۔ چنانچہ اسی کتاب کے صفحہ ۳۳۷ میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ عبد الملک نے اس سے دریافت کیا کہ تجھے شراب پینے سے کیا حاصل ہے