میں نہایت عجیب اور حیرت انگیز تبدؔ یلیاں پیدا کرچکا اور تربیت کو کمال تک بلکہ اس سے بھی بڑھ کر دیوان اخطل میں ایک اور شعر ہے جو اس وقت ہم وہ بھی ہدیہ ناظرین کرتے ہیں اور وہ یہ ہے: "ان من یدخل الکنیسۃ یومًا یلقٰی فیھا جأذر و ظباء" ترجمہ اس شعر کا یہ ہے کہ اگر ہمارے گرجا میں کسی دن کوئی جائے تو بہت سے گوزن بچے اور ہرن اس میں پائے گا۔ یعنی بہت سی خوبصورت اور جوان اور باجمال اور چست عورتوں کو دیکھ کر حظ اٹھائے گا۔ یعنی گویا اس میں میاں اخطل لوگوں کو رغبت دیتے ہیں کہ ضرور گرجا میں جانا چاہئے اور یہ لطف اٹھانا چاہئے۔ اب اس شعر سے دو باتیں نکلتی ہیں۔ اول یہ کہا اخطلنے اپنی قوم کے لئے کوئی گرجا بھی بنایا ہوا تھا جس میں وہ ایک پادری کی حیثیت سے جایا کرتا تھا اور بظاہر انجیل اپنے ہاتھ میں لے کر لوگوں کی لڑکیوں اور بہؤں کو تاڑا کرتا تھا اور انہیں سے ناجائز تعلقات کر رکھے تھے۔ دوسری یہ بات پیدا ہوتی ہے کہ ان ناجائز تعلقات کو قوم کچھ بھی بُرا نہیں مانتی تھی اور ایسے نظر باز کو گرجا سے نہیں نکالتی تھی اور پادری کے منصب سے علیحدہ نہیں کرتی تھی حالانکہ ان کو کم سے کم یہ تو خبر تھی کہ یہ شخص ناپاک دل ہے اور ناپاک حرکات کا دل میں قصد رکھتا ہے کیونکہ اس کے گندے شعر جو یارانہ اور آشنائی پر دلالت کرتے تھے قوم سے مخفی نہیں تھے پس اس سے بڑھ کر اس بات پر اور کیا دلیل ہوگی کہ وہ ساری قوم ہی فسق و فجور میں مبتلا تھی اور ان کے گرجے طوائف کی کوٹھیوں کی طرح تھے اور ان مردوں عورتوں کے جمع ہونے کے لئے جو بدوضع اور ناپاک خیال تھے گرجوں سے بہتر اور کوئی مکان نہ تھا۔ یعنی وہ گرجوں ہی میں اپنے نفسانی جذبات کے پورا کرنے کے لئے موقعہ پاتے تھے۔ اور اخطل صرف اپنے ہی نفسانی جذبات میں مبتلا نہیں تھا بلکہ وہ عیسائیوؔ ں کی کسی عورت یا لڑکی کو بھی پاک دامن نہیں سمجھتا تھا۔ چنانچہ اس کے دیوان اخطل میں جس کے ساتھ عیسائی محققوں نے اس کی لائف بھی شائع کی ہے۔ اس کی سوانح میں یہ درج کیا ہے