حاصل مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید جس قدر نازل ہونا تھا نازل ہو چکا اور مستعد دلوں یہ سوال پیش کرے کہ کیوں یہ جائز نہیں کہ اخطل اپنی پیرانہ سالی کے زمانہ میں بہت سی خوبصورت عورتیں اپنے نکاح میں لایا ہو تو اس صورت میں زنا کا الزام اس پر کیونکر عائد ہوسکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اخطل نے اپنے شعر میں اس مضمون کو ہرگز ظاہر نہیں کیا۔ کہ وہ خوب صورت عورتیں میری بیویاں ہیں بلکہ ایسی طرز پر اپنے کلام کو ظاہر کیا ہے جیسا کہ بدکار اور بدچلن آدمی ہمیشہ ظاہر کیا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس نے خوب صورت عورتوں کے ساتھ عمدہ شراب کو بھی جوڑ دیا ہے کیونکہ شراب بدمعاشی کے لوازم میں سے ہے اور ماسوا اس کے یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ عیسائی مذہب میں صرف ایک جورو تک جائز ہے پھر کیونکر ممکن تھا کہ قوم کے لوگ اپنے مذہب اور رسم کے مخالف اس کو خوبصورت لڑکیاں دے دیتے۔ یہ قبول کیا کہ وہ اپنے علم اور فضل کے رو سے تمام قوم سے بہتر تھا اور جیسا کہ اس زمانہ میں ایک بڑے بھاری بشپ کو اپنی قوم میں ایک عام وجاہت ہوتی ہے۔ یہی وجاہت یا اس سے زیادہ اس کو حاصل تھی اور وہ مقتدا اور پیشوا اور ساری قوم کا برگزیدہ تھا۔ مگر تاہم یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ لوگ عمداً اپنی خوبصورت لڑکیاں قدیم رسم کے مخالف اس کے نکاح میں لائے ہوں اور اس کا یہ شعر بلند آواز سے پکار رہا ہے کہ صرف زنا کے طور پر یہ ناجائز حرکتیں اس سے صادر ہوتی تھیں۔ تبھی تو شراب کباب کا سلسلہ بھی ساتھ جاری تھا کیا کوئی قبول کرسکتا ہے کہ ایک بڈھا آدمی اور پھر لڑکی والوں کو سوت کا دکھ اور پھر لڑکی پر لڑکی دینا مذہب کے مخالف رسم کے مخالف قومی اتفاق کے مخالف اور پھر لوگ اندھے ہوکر میاں اخطل کو اپنی خوبصورت لڑکیاں دیتے جائیں اور دو تین خم شراب کے بھی ساتھ لے آویں۔ بے شک اس خیال محال کو تو کوئی بھیؔ قبول نہ کرے گا۔ اصل بات تو وہی ہے جو ہم لکھ چکے جس کی نظیریں اب بھی یورپ میں نہ صدہا نہ ہزارہا بلکہ لاکھوں موجود ہیں۔ یورپ کے سفر میں سمندر سے پار ہوتے ہی یہ نظارہ جا بجا نظر آ جائے گا۔ ماسوا اس کے اخطل کا صرف یہی شعر نہیں