لئے کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی اور تمہارے لئے دین اسلام پسندؔ کر لیا
کیونکہ اس نے اس وقت کے
تمام عیسائیوں اور پادریوں سے خصوصیت کے ساتھ وہ علمیت اور قابلیت دکھلائی کہ اس وقت کے عیسائیوں اور پادریوں میں سے کوئی بھی دکھلا نہ سکا۔ بہرحال ہمیں ماننا ہی پڑا کہ وہ اس وقت کے
عیسائیوں کا ایک منتخب نمونہ ہے۔ مگر ابھی آپ سن چکے ہیں کہ وہ اس بات کا اپنے منہ سے اقراری ہے کہ میں خوبصورت عورتوں اور عمدہ شراب کے ساتھ پیرانہ سالی کے ملال کو دفع کرتا ہوں۔
اور اس وقت کے شعراء کا بھی یہی محاورہ تھا کہ وہ اپنی بدکاریوں کو انہیں الفاظ سے ادا کرتے تھے اور وہ لوگ حال کے نادان شاعروں کی طرح صرف فرضی خیالات کی بندش نہیں کرتے تھے بلکہ
اپنی زندگی کے واقعات کا نقشہ کھینچ کر دکھلا دیتے تھے اسی وجہ سے ان کے دیوان محققوں کی نظر میں نکمے نہیں سمجھے گئے۔ بلکہ تاریخی کتب کا ان کو پورا مرتبہ دیا گیا ہے اور وہ پرانے
زمانہ کے رسوم اور عادات اور جذبات اور خیالات کو کامل طور پر ظاہر کرتے ہیں اسی واسطے اہل اسلام نے جو علم دوست ہیں ان کے قصائد اور دیوانوں کو ضائع نہیں کیا تا کہ ہر زمانہ کے لوگ
بچشم خود معلوم کرسکیں کہ اسلام سے پہلے عرب کا کیا حال تھا اور پھر اسلام کے بعد قادر خدا نے کس تقویٰ اور طہارت سے ان کو رنگین کر دیا۔ اگر اخطل اور دیوان حماسہ اور سبعہ معلقہ اور
اغانی کےؔ وہ اشعار جو جاہلیت کے شعرا کے صاحب اغانی نے لکھے ہیں اور جو لسان العرب اور صحاح جوہری وغیرہ پرانی کتابوں میں موجود ہیں نظر کے سامنے رکھے جائیں اور پھر ان کے
مقابل پر اسلام کو دیکھا جائے تو ببداہت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس تاریک زمانہ میں اسلام اس طرح پر چہرہ نما ہوا کہ جیسے کہ ایک نہایت درجہ کی تاریکی میں یک دفعہ آفتاب نکل آتا ہے۔ اس مقابلہ
سے ایک نظارہ قدرت معلوم ہوتا ہے اور دل بول اٹھتا ہے کہ اللہ اکبر کیسی اس وقت قرآن شریف کے نزول کی ضرورت تھی۔ درحقیقت اس قوی دلیل نے تمام مخالفوں کو پاؤں کے نیچے کچل دیا ہے۔ پھر
ہم اپنے پہلے مضمون کی طرف عود کر کے لکھتے ہیں کہ ممکن ہے کہ کوئی نادان اخطل کی نسبت