یعنی آج میں نے قرآن شریف کے اتارنے اور تکمیلؔ نفوس سے تمہارا دین تمہارے اب اس شعر سے صاف ظاہر ہے کہ یہ شخص باوجود پیرانہ سالی اور عیسائیوں کا ایک بزرگ فاضل کہلانے کے پھر بھی زنا کاری کی ایک خراب حالت میں مبتلا رہا اور زیادہ قابل شرم بات یہ کہ بڈھا ہوکر بھی بدکاری سے باز نہ آیا اور نہ صرف اسی پر بس کرتا تھا بلکہ شراب پینے کا بھی نہایت درجہ عادی تھا۔ اخطل کی لائف پر اطلاع رکھنے والے اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ وہ اس زمانہ کی عیسائی قوم میں بہت ہی معزز اور علم اور فضیلت کی رو سے گویا ان میں صرف ایک ہی تھا اور اس کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف اس خیال کو جو کفارہ کے مسئلہ سے اس کو ملا تھا شاعرانہ لباس میں ادا کرتا بلکہ وہ پادریوں کا بھی منصب رکھتا تھا۔ اور جن گرجاؤں کا اس نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ یقین کیا جاتا ہے کہ وہ ان میں ایک پیشرو پادری کی حیثیت سے بلا ناغہ جاتا تھا اور سب لوگ اسی کے نقش قدم پر چلتے تھے کیا اس زمانہ کے تمام عیسائیوں میں سے اس کے یگانہ روزگار ہونےؔ میں یہ کافی دلیل نہیں کہ کروڑہا عیسائیوں اور پادریوں میں سے صرف وہی اس زمانہ کا ایک آدمی ہے جس کی یادگار تیرہ سو برس میں اس زمانہ میں پائی گئی غرض عیسائیوں میں سے صرف ایک اخطلہی ہے جو پرانے عیسائیوں کے چال چلن کا نمونہ بطور یادگار چھوڑ گیا۔ اور نہ صرف اپنا ہی نمونہ بلکہ اس نے گواہی دے دی کہ اس وقت کے تمام عیسائیوں کا یہی حال تھا اور درحقیقت وہی چال چلن بطور سلسلہ تعامل کے اب تک یورپ میں چلا آتا ہے عیسائی مذہب کا پایہ تخت ملک کنعان تھا اور یورپ میں اسی ملک سے یہ مذہب پہنچا اور ساتھ ہی ان تمام خرابیوں کا تحفہ بھی ملا۔ غرض اخطلکا دیوان نہایت قدر کے لائق ہے جس نے اس وقت کے عیسائی چال چلن کا تمام پردہ کھول دیا اور تاریخ پتہ نہیں دے سکتی کہ اس زمانہ کے عیسائیوں میں سے کوئی اور بھی ایسا ہے جس کی کوئی تالیف عیسائیوں کے ہاتھ میں ہو۔ ہمیں اخطلکی سوانح پر نظر ڈالنے کے بعد ماننا پڑتا ہے کہ وہ انجیل سے بھی خوب واقف تھا