دوسراؔ پہلو اس دلیل کا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ایسے وقت میں
میں پیش دست تھے۔ کیونکہ یہودی
لوگ متواتر ذلتوں اور کوفتوں سے کمزور ہوچکے تھے اور وہ شرارتیں جو ایک سفلہ آدمی اپنی طاقت اور دولت اور عروج قومی کو دیکھ کر کرسکتا ہے یا وہ بدچلنیاں جو کثرت دولت اور روپیہ پر موقوف
ہیں۔ ایسے نالائق کاموں کا یہودیوں کو کم موقعہ ملتا تھا مگر عیسائیوں کا ستارہ ترقی پر تھا اور نئی دولت اور نئی حکومت ہر وقت انگشت دے رہی تھی کہ وہ تمام لوازمات ان میں پائے جائیں جو بدی
کے مؤیدات پیدا ہونے سے قدرتی طور پر ہمیشہ پائی جاتی ہیں۔ پس یہی سبب ہے کہ اس زمانہ میں عیسائیوں کی بدچلنی اور ہریک قسم کی بدکاری سب سے زیادہ بڑھی ہوئی تھی اور یہ بات یہاں تک ایک
مشہور واقع ہے کہ پادری فنڈل باوجود اپنے سخت تعصب کے اس کو چھپا نہیں سکا اور مجبور ہوکر اس زمانہ کے عیسائیوں کی بدچلنیوں کا میزان الحق میں اس کو اقرار کرنا ہی پڑا۔ مگر دوسرے
انگریز مؤرخوں نے تو بڑی بسط سے ان کی بدچلنیوں کا مفصل حال لکھا ہے چنانچہ ان میں سے ایک ڈیون پورٹ صاحب کی کتاب ہے جو ترجمہ ہوکر اس ملک میں شائع ہوگئی ہے۔ غرض یہ ثابت شدہ
حقیقت ہے کہ اس زمانہ کے عیسائی اپنی نئی دولت اور حکومت اور کفارہ کی زہر ناک تحریک سے تمام بدچلنیوں میں سب سے زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ ہریک نے اپنی فطرت اور طبیعت کے موافق جدا
جدا بے اعتدالی اور معصیت کی راہیں اختیار کر رکھی تھیں اور ان کی دلیریوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کی سچائی سے بالکل نومید ہوچکے تھے اور ایک چھپے ہوئے دہریہ تھے اور ان کی
روحانیت کی اس وجہ سے بہت ہی بیخ کنی ہوئی کہ دنیا کے دروازے ان پر کھولے گئے اور انجیل کی تعلیم میں شراب کی کوئی ممانعت نہیں تھی۔ قمار بازی سے کوئی روک نہ تھی پس یہی تمام زہریں
مل کر ان کا ستیاناس کر گئیں۔ صندوقوں میں دولت تھی ہاتھ میں حکومت تھی۔ شرابیں*
* نوٹ: ؔ شراب بنانا حضرت عیسیٰ ؑ کا ایک معجزہ شمارکیا گیا ہے بلکہ شراب پینا عیسائی مذہب کی جزو
اعظم ہے جیسا کہ عشاء رَبّانی میں ہے۔ منہ