دریافت کر لو۔
اب سوچ کر دیکھو کہ یہ دلیل جو تمہارے سامنے پیش کی گئی ہے یہ ہم نے اپنے ذہن سے ایجاد نہیں کی۔ بلکہ
قرآن شریف آپ ہی اس کو پیش کرتا ہے اور دلیل کے دونوں حصے بیان کر کے پھر آپ ہی فرماتا ہے۔۱ یعنی اس رسول اور اس کتاب کے منجانب اللہ ہونے پر یہ بھی ایک نشان ہے جس کو ہم نے بیان
کر دیا تا تم سوچو اور سمجھو اور حقیقت تک پہنچ جاؤ۔*
قرآن شریف نے جس قدر اپنے نزول کے زمانہ میں ان عیسائیوں وغیرہ کی بدچلنیاں بیان کی ہیں جو اس وقت موجود تھے۔ ان تمام قوموں نے
خود اپنے منہ سے اقرار کر لیا تھا بلکہ بار بار اقرار کرتے تھے کہ وہ ضرور ان بدچلنیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں اور عرب کی تاریخ دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
کے سلسلہ آباء و اجداد کے جن کو اللہ جلّ شانہٗنے اپنے خاص فضل و کرم سے شرک اور دوسری بلاؤں سے بچائے رکھا باقی تمام لوگ عیسائیوں کے بدنمونہ کو دیکھ کر اور ان کی چال و چلن کی
بدتاثیر سے متاثر ہوکر انواع اقسام کے قابل شرم گناہوں اور بدچلنیوں میں مبتلا ہوگئے تھے اور جس قدر بدچلنی اور بد اعمالی عربوں میں آئی وہ درحقیقت عربوں کی ذاتی فطرت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ
ایک نہایت ناپاک اور بدچلن قوم ان میں آباد ہوگئی جو ایک جھوٹے منصوبہ کفارہ پر بھروسہ کر کے ہریک گناہ کو شیر مادر کی طرح سمجھتی تھی اور مخلوق پرستی اور شراب خواری اور ہریک قسم کی
بدکاری کو بڑے زور کے ساتھ دنیا میں پھیلا رہی تھی اور اول درجہ کی کذّاب اور دغا باز اور بد سرشت تھی۔ بظاہر یہ فرق کرنا مشکل ہے کہ کیا اس زمانہ میں فسق و فجور اور ہریک قسم کی بد چلنی
میں یہودی بڑھے ہوئے تھے یا عیسائی نمبر اول پر تھے۔ مگر ؔ ذرہ غور کرنے
کے بعد معلوم ہوگا کہ درحقیقت عیسائی ہی ہر ایک بدکاری اور بدچلنی اور مشرکانہ عادات