دنیا سے اپنے مولیٰؔ کی طرف بلائے گئے جبکہ وہ اپنے کام کو پورے طور پر انجام دے چکے اور یہ امر قرآن شریف سےؔ بخوبی ثابت ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا خود ایجاد کر لیں۔ پھر کیا تھا۔ اُمّ الخبائث کی تحریکوں سے سارے برے کام کرنے پڑے۔ یہ باتیں ہم نے اپنی فطرت سے نہیں کہیں۔ خود بڑے بڑے مؤرخ انگریزوں نے اس کی شہادتیں دی ہیں۔ اور اب بھی دے رہے ہیں بزرگ پادری باس ورتھ اور فاضل قسیس ٹیلر نے حال ہی کے زمانہ میں کس صفائی سے انہیں باتوں پر لیکچر دیئے ہیں اور کس زور سے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ عیسائی مذہب کی قدیم بدچلنیوں نے اس کو ہلاک کر دیا ہے چنانچہ قوم کےؔ فخر پادری باس ورتھ صاحب اپنے لیکچر میں بآواز بلند بیان کرتے ہیں کہ عیسائی قوم کے ساتھ تین لعنتیں لازم ملزوم ہو رہی ہیں جو اس کو ترقی سے روکتی ہیں۔ وہ کیا ہیں۔ زناکاری۔ شراب خواری۔ قمار بازی۔ غرض اس زمانہ میں سب سے زیادہ یہ عیسائیوں کا ہی حق تھا کہ وہ بدکاریوں کے میدانوں میں سب سے پہلے رہیں۔ کیونکہ دنیا میں انسان صرف تین وجہ سے گناہ سے رک سکتا ہے (۱) یہ کہ خدا تعالیٰ کا خوف ہو (۲) یہ کہ کثر ت مال جو بدمعاشیوں کا ذریعہ ہے اس کی بلا سے بچے (۳) یہ کہ ضعیف اور عاجز ہو کر زندگی بسر کرے حکومت کا زور پیدا نہ ہو۔ مگر عیسائیوں کو ان تینوں روکوں سے فراغت ہوچکی تھی اورکفارہ کے مسئلہ نے گناہ پر دلیر کر دیا تھا اور دولت اور حکومت ظلم کرنے کے لئے معین ہوگئے تھے۔ پس چونکہ دنیا کی راحتیں اور نعمتیں اور دولتیں ان پر بہت وسیع ہوگئی تھیں اور ایک زبردست سلطنت کے وہ مالک بھی ہوگئے تھے اور پہلے اس سے ایک مدت تک فقر و فاقہ اور تکالیف شاقہ میں مبتلا رہ چکے تھے اس لئے دولت اور حکومت کو پاکر عجیب طوفان فسق و فجور ان میں ظاہر ہوا اور جس طرح پُر زور سیلاب آنے کے وقت بند ٹوٹ جاتا ہے اور پھر بند ٹوٹنے سے تمام اردگرد کھیتوں اور آبادی کی شامت آجاتی ہے اسی طرح ان دنوں میں وقوع میں آیا کہ جب عیسائیوں کو تمام اسباب شہوت رانی کے میسر آگئے۔ اور دولت اور قوت اور بادشاہت میں تمام دنیا کے طاقتوروں