بلائے جانا اور ان دونوں پہلوؤں کا قرآن کا آپ پیش کرنا اور آپ دنیا کو اس کی طرف توجہ دلانا یہ ایک ایسا امر ہے کہ انجیل تو کیا بجز قرآن شریف کسی پہلی کتاب میں بھی نہیں پایا جاتا۔ قرآن شریف نے آپ یہ دلائل پیش کئے ہیں اور آپ فرما دیا ہے کہ اس کی سچائی ان دو پہلوؤں پر نظر ڈالنے سے ثابت ہوتی ہے۔ یعنی ایک تو وہی جو ہم بیان کر چکے ہیں کہ ایسے زمانہ میں ظہور فرمایا جبکہ زمانہ میں عام طور پر طرح طرح کی بدکاریاں بداعتقادیاں پھیل گئی تھیں اور دنیا حق اور حقیقت اور توحید اور پاکیزگی سے بہت دور جا پڑی تھی اور قرآن شریف کے اس قول کی اس وقت تصدیق ہوتی ہے۔ جبکہ ہریک قوم کی تاریخ اس زمانہ کے متعلق پڑھی جائے۔ کیونکہ ہریک قوم کے اقرار سے یہ عام شہادت پیدا ہوتی ہے کہ درحقیقت وہ ایسا پُر ظلمت زمانہ تھا کہ ہریک قوم مخلوق پرستی کی طرف جھک گئی تھی اور یہی و جہ ہے کہ جب قرآن نے تمام قوموں کو گمراہ اور بدکار قرار دیا تو کوئی اپنا بری ہونا ثابت نہ کرسکا۔ دیکھو اللہ تعالیٰ کیسے زور سے اہل کتاب کی بدیوںؔ اور تمام دنیا کے مرجانے کاذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے۔۱؂ ( سورۃ الحدید جزونمبر ۲۷ رکوع۱۷) یعنی مومنوں کو چاہیئے کہ اہل کتاب کی چال و چلن سے پرہیز کریں ان کو اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی۔ پس ان پر ایک زمانہ گذر گیا سو ان کے دل سخت ہوگئے اور اکثر ان میں سے فاسق اور بدکار ہی ہیں۔ یہ بات بھی جانو کہ زمین مر گئی تھی اور اب خدا نئے سرے سے زمین کو زندہ کررہا ہے یہ قرآن کی ضرورت اور سچائی کے نشان ہیں جو اس لئے بیان کئے گئے تاکہ تم نشانوں کو