ہر ایک پر ظاہر کرتے ہیں کہ عبد الحق اور اس کے گروہ کی ذلت ہوئی کیونکہ اس مباہلہ کے بعد ہر ایک ایسا امر پیدا ہوا کہ جو ہماری عزت کا موجب اور ان کی ذلت کا موجب تھا۔ (۱) ایک ان میں سے یہ کہ ہمارے لئے کسوف خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور صدہا آدمی اسکو دیکھ کر ہماری جماعت میں داخل ہوئے اور اس کسوف خسوف سے ہم کو خوشی پہنچی اور مخالفوں کو ذلت کیا وہ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ انکا دل چاہتا تھا کہ ایسے موقع پر جو ہم مہدی موعود کا دعویٰ کر رہے ہیں کسوف خسوف ہوجائے اور بلاد عرب میں اس کا نام و نشان نہ ہو اور پھر جبکہ خلاف مرضی ظاہر ہوگیا تو بے شک ان کے دلؔ دکھے ہوں گے اور اس میں اپنی ذلت دیکھتے ہوں گے۔ (۲) دوئم۔ جب ہم مباہلہ کے لئے گئے تو ہمارا بڑا بیٹا سخت بیمار تھا اور ایک سخت بیماری دامن گیر تھی ہم نے کچھ بھی اس کی پروا نہ کی اور اسی حالت میں سفر کیا مگر خداتعالیٰ نے مباہلہ کے بعد ہی اس کو شفا بخش دی کیا وہ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ شفا ان کی مراد کے موافق ہوئی۔ (۳) سوئم۔ یہ بات بھی ظاہر ہے کہ ہم نے اسی پندرہ مہینہ کے اندر تمام مکفّر مولویوں کو ان کی مولویت پرکھنے کی غرض سے بالمقابل عربی رسائل بنانے کیلئے مخاطب کیا تھا تا وہ ذلیل ہوں پس خداتعالیٰ نے آپ مدد دے کر اس میں ہمیں کامیاب کیا اور پادریوں کی طرح رسالہ نور الحق اور کرامات الصادقین اور سر الخلافہ کے مقابلہ سے وہ عاجز رہ گئے اور ایسی ذلت ان کو پہنچی کہ کچھ بھی مولویت کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ ہم نے صاف طور پر لکھا تھا کہ اگر ان رسائل کا مقابلہ کر دکھاویں تو چھ ہزار ستائیس روپیہ کا انعام پاویں اور الہام کو جھوٹا ثابت کریں اور ہزار *** سے بچیں۔ اب اے مولوی عبد الحق مکفر المسلمین سچ بتا کہ آپ نے کون سا بالمقابل رسالہ بنایا اور اگر نہیں لکھا تو سچ کہو کہ یہ ذلت کس کو پہنچی ہم کو یا تم کو۔ (۴) چوتھی۔ یہ بڑی بھاری ذلت ہے جو اب آپ کو نصیب ہوئی اور یہ پیشگوئی سچی نکلی۔ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ ان چار ذلتوں اور رسوائیوں اور ان باتوں کو جو اخیر میں ہم نے اپنی نسبت لکھی ہیں۔ کسی منصف کے سامنے پیش کرو۔ اگر وہ قسم کھا کر کہہ دے کہ اس سے تمہاری عزت قائم ہوئی ہے اور کوئی داغ نہیں لگا تو ہم قسمًاکہتے ہیں کہ ہم پانسو روپیہ تم کو انعام دیں گے۔ چنانچہ ہم شیخ محمد حسین بٹالوی کو ہی منصف قرار دیتے ہیں اور اس کے پاس ہی یہ روپیہ باضابطہ تحریر لے کر جمع کرا سکتے ہیں صرف اتنا ہوگا کہ وہ کھڑا ہوکر تین مرتبہ یہ تقریر کرے کہ یہ تمام وجوہ جو ذلت کی بیان کی گئی ہیں یہ بالکل صحیح نہیں ہیں اور ان باتوں سے جو بعد مباہلہ ظاہر ہوئیں عبد الحق اور