کے عمیق کنوئیں میں ڈوب گئی ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ انجیل میں بھی کسی قدر یہودیوں کی بدچلنیوں کا ذکر ہے لیکن مسیح نے
کہیں یہ ذکر تو نہیں کیا کہ جس قدر دنیا کے صفحہ میں لوگ موجود ہیں جن کو عالمین کے نام سے نامزد کرسکتے ہیں وہ بگڑ گئے مرگئے اور دنیا شرک اور بدکاریوں سے بھر گئی اور نہ رسالت کا عام
دعویٰ کیاؔ ۔ پس ظاہر ہے کہ یہودی ایک تھوڑی سی قوم تھی جو مسیح کی مخاطب تھی بلکہ وہی تھی جو مسیح کی نظر کے سامنے اور چند دیہات کے باشندے تھے۔ لیکن قرآن کریم نے تو تمام زمین
کے مر جانے کا ذکر کیا ہے اور تمام قوموں کی بری حالت کو وہ بتلاتا ہے اور صاف بتلاتا ہے کہ زمین ہر قسم کے گناہ سے مر گئی* یہودی تو نبیوں کی اولاد اور تورات کو اپنے اقرار سے مانتے
تھے گو عمل سے قاصر تھے لیکن قرآن کے زمانہ میں علاوہ فسق اور فجور کے عقائد میں بھی فتور ہوگیا تھا۔ ہزارہا لوگ دہریہ تھے۔ ہزارہا وحی اور الہام سے منکر تھے اور ہر قسم کی بدکاریاں زمین
پر پھیل گئی تھیں اور دنیا میں اعتقادی اور عملی خرابیوں کا ایک سخت طوفان برپا تھا۔ ماسوا اس کے مسیح نے اپنی چھوٹی سی قوم یہودیوں کی بدچلنی کا کچھ ذکر تو کیا جس سے البتہ یہ خیال پیدا ہوا
کہ اس وقت یہود کی ایک خاص قوم کو ایک مصلح کی ضرورت تھی مگر جس دلیل کو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منجانب اللہ ہونے کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کا فساد عام کے وقت میں آنا اور کامل اصلاح کے بعد واپس
* نوٹ:اگر کوئی کہے کہ فساد اور بدعقیدگی اور بداعمالیوں میں یہ زمانہ بھی تو کم نہیں پھر اس میں کوئی نبی کیوں نہیں آیا۔ تو
جواب یہ ہے کہ وہ زمانہ توحید اور راست روی سے بالکل خالی ہوگیا تھا اور اس زمانہ میں چالیس کروڑ لا الہ الا اللّٰہ کہنے والے موجود ہیں اور اس زمانہ کو بھی خدا تعالیٰ نے مجدد کے بھیجنے
سے محروم نہیں رکھا۔ منہ