میں حد اعتدال سے گذر گئے ہو اور فرمایا۱؂ یعنی یہ بات تمہیں معلوم رہے کہ زمین سب کی سب مرگئی تھی۔ اب خدا نئے سرے اس کو زندہ کرتا ہے۔ غرض تمام دنیا کو قرآن نے شرک اور فسق اور بت پرستی کے الزام سے ملزم کیا جو اُمّ الخبائث ہیں اور عیسائیوں اور یہودیوں کو دنیا کی تمام بدکاریوں کی جڑ ٹھہرایا اور ہریک قسم کی بدکاریاں ان کی بیان کر دیں اور ایک ایسا نقشہ کھینچ کر زمانہ موجودہ کا اعمال نامہ دکھلادیا کہ جب سے دنیا کی بناء پڑی ہے بجز نوح کے زمانہ کے اور کوئی زمانہ اس زمانہ سے مشابہ نظر نہیں آتا اور ہم نے اس جگہ جس قدر آیات لکھ دی ہیں وہ اتمام حجت کے لئے اول درجہ پر کام دیتی ہیں۔ لہٰذا ہم نے طول کے خوف سے تمام آیات کو نہیں لکھا۔ ناظرین کو چاہیئے کہ قرآن شریف کو غور سے پڑھیں تا انہیں معلوم ہوکہ کس شدّ و مدّ اور کس قدر مؤثر کلام سے جابجا قرآن شریف بیان کر رہا ہے کہ تمام دنیا بگڑ گئی۔ تمام زمین مرگئی اور لوگ دوزخ کے گڑھے کے قریب پہنچ گئے اور کیسے بار بار کہتا ہے کہ تمام دنیا کو ڈرا کہ وہ خطرناک حالت میں پڑے ہیں۔ یقیناً قرآن کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شرک اور فسق اور بت پرستی اور طرح طرح کے گناہوں میں سڑ گئی اور بدکاریوں بقیہ حاشیہ:زندہ درگور کرتا ہے اور فرماتا ہے ۲؂ یعنی قیامت کو زندہ درگور لڑکیوں سے سوال ہوگا کہ وہ کس گناہ سے قتل کی گئیں یہ اشارہ ملک کی موجودہ حالت کی طرف کیا کہ ایسے ایسے بُرے کام ہو رہے ہیں اسی کی طرف عرب کے ایک پرانے شاعر ابن الاعرابی نے اشارہ کیا ہے چنانچہ وہ کہتا ہے ما لقی المؤود من ظلم اُمّہ کما لقیت ذھل جمیعا و عامر‘ یعنی زندہ درگور لڑکی پر اس کی ماں کی طرف سے وہ ظلم نہیں ہوتا جیسا کہ ذہل اور عامر پر ہوا۔ منہ