کو ڈراوے یعنی ان کو متنبہ کرے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور میں اپنی بدکاریوں اور عقیدوں کی وجہ سے سخت گنہگار ٹھہری
ہیں۔
یاد رہے کہ جو اس آیت میں نذیر کا لفظ دنیا کے تمام فرقوں کے مقابل پر استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی گنہگاروں اور بدکاروں کو ڈرانا ہے اسی لفظ سے یقینی سمجھا جاتا ہے کہ قرآن کا یہ
دعویٰ تھا کہ تمام دنیا بگڑ گئی اور ہر ایک نے سچائی اور نیک بختی کا طریق چھوڑ دیا کیونکہ انذار کا محل فاسق اور مشرک اور بدکار ہی ہیں اور انذار اور ڈرانا مجرموں کی ہی تنبیہہ کے لئے ہوتا ہے
نہ نیک بختوں کے لئے۔ اس بات کو ہریک جانتا ہے کہ ہمیشہ سرکشوں اور بے ایمانوں کو ہی ڈرایا جاتا ہے اور سنت اللہ اسی طرح پر ہے کہ نبی نیکوں کے لئے بشیرہوتے ہیں اور بدوں کے لئے نذیر۔
پھر جبکہ ایک نبی تمام دنیا کے لئے نذیر ہوا تو ماننا پڑا کہ تمام دنیا کو نبی کی وحی نے بداعمالیوں میں مبتلا قرار دیا ہے اور یہ ایک ایسا دعویٰ ہے کہ نہ توریت نے موسیٰ کی نسبت کیا اور نہ انجیل نے
عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کی نسبت بلکہ صرف قرآن شریف نے کیا اور پھر فرمایا کہ۱ یعنی تم اس نبی کے آنے سے پہلے دوزخ کے گڑھے کے کنارہ پر پہنچ چکے تھے اور عیسائیوں اور
یہودیوں کو بھی متنبہ کیا کہ تم نے اپنے دجل سے خدا کی کتابوں کو بدل دیا اور تم ہریک شرارت اور بدکاری میں تمام قوموں کے پیشرو ہو اور بُت پرستوں کو بھی جابجا ملزم کیا کہ تم پتھروں اور
انسانوں اور ستاروں اور عناصرؔ کی پرستش کرتے ہو اور خالق حقیقی کو بھول گئے ہو اور تم یتیموں کا مال کھاتے اور بچوں کو قتل کرتے اور شرکاء پر ظلم کرتے ہو اور ہریک بات
* حا شیہ:
جیسا کہ فرماتا ہے ۲ یعنی مشرک اپنی لڑکی کو(باقی اگلے صفحہ پر)