خدا کا کلام ہے اور حضرت سیدنا و مولانا محمّد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سچے نبی اور رسول ہیں جن پر وہ پاک کلام اترا ہے چنانچہ یہ دعویٰ آیات مندرجہ ذیل میں بخوبی مصرح و مندرج ہے۔ (آل عمران ۱،۲) ۱؂ ۔ یعنی وہی اللہ ہے۔ اس کا کوئی ثانی نہیں اسی سے ہر ایک کی زندگی اور بقا ہے۔ اس نے حق اور ضرورت حقہ کے ساتھ تیرے پر کتاب اتاری اور پھر فرمایا ۲؂ ۔ الجزونمبر۵سورۃ النساء۔ یعنی اے لوگو حق اور ضرورت حقہ کے ساتھ تمہارے پاس یہ نبی آیا ہے اور پھر فرمایا ۳؂ ۔ الجزونمبر ۱۵ یعنی ضرورت حقہ کے ساتھ ہم نے اس کلام کو اتارا ہے اور ضرورت حقہ کے ساتھ اترا ہے۔ اور پھر فرمایا ۴؂ ۔ الجزو نمبر۶سورۃ النساء۔ اے لوگو تمہارے پاس یہ یقینی برہان پہنچی ہے اور ایک کھلا نور تمہاری طرف ہم نے اتارا ہے۔ اور پھر فرمایا ۵؂ ۔ الجزونمبر۹ یعنی لوگوں کو کہہ دے کہ میں تم سب کی طرف پیغمبر ہوکر آیا ہوں۔ اور پھرفرمایا ۶؂ ۔ الجزو نمبر ۲۶ یعنی جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کئے اور اس کتاب پر ایمان لائے جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور وہی حق ہے خداؔ ان کے گناہ دور کرے گا اور ان کے حال چال کو درست کر دے گا۔ ایسا ہی صدہا آیات اور ہیں جن میں نہایت صفائی سے یہ دعویٰ کیا گیا