ہے کہ قرآن کریم خدا کا کلام اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سچے نبی ہیں لیکن ہم بالفعل اسی قدر لکھنا
مناسب و کافی دیکھتے ہیں مگر ساتھ ہی اپنے مخالفوں کو یاد دلاتے ہیں کہ جس شد و مد سے قرآن شریف میں یہ دعویٰ موجود ہے کسی اور کتاب میں ہرگز موجود نہیں۔ ہم نہایت مشتاق ہیں اگر آریہ
اپنے ویدوں میں اتنا بھی ثابت کر دیں کہ ان کے ہر چہار ویدوں نے الٰہی کلام ہونے کا دعویٰ کیا اور بتصریح بتلایا کہ فلاں فلاں شخص پر فلاں زمانہ میں وہ اترے ہیں۔ کتاب اللہ کے ثبوت کے لئے پہلا
ضروری امر یہی ہے کہ وہ کتاب اپنے منجانب اللہ ہونے کی مدعی بھی ہو کیونکہ جو کتاب اپنے منجانب اللہ ہونے کی طرف آپ کوئی اشارہ نہیں کرتی اس کو خداوند تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا ایک
بے جا مداخلت ہے۔
اب دوسرا امر قابل تذکرہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے اپنے منجانب اللہ ہونے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بارے میں صرف دعویٰ ہی نہیں کیا بلکہ اس دعویٰ
کو نہایت مضبوط اور قوی دلیلوں کے ساتھ ثابت بھی کر دیا ہے اور ہم انشاء اللہ تعالیٰ سلسلہ وار اُن تمام دلائل کو لکھیں گے اور ان میں سے پہلی دلیل ہم اسی مضمون میں تحریر کرتے ہیں تاحق کے
طالب اول اسی دلیل میں دوسری کتابوں کا قرآن کے ساتھ مقابلہ کریں اور نیز ہم ہریک مخالف کو بھی بلاتے ہیں کہ اگر یہ طریق ثبوت جس کا ایک کتاب میں پایا جانا اس کی سچائی پر بدیہی دلیل ہے ان
کی کتابوں اور نبیوں کی نسبت بھی پایا جاتا ہے تو وہ ضرور اپنے اخباروں اور رسالوں کے ذریعہ سے پیش کریں ورنہ ان کو اقرار کرنا پڑے گا کہ ان کی کتابیں اس اعلیٰ درجہ کے ثبوت سے عاری
اور بے نصیب ہیں اور ہم نہایت یقین اور وثوق سے کہتے ہیں