امور مخالف عقل پیش نہیں کرتی جن کا قبول کرنا اکراہ اور جبر میں داخل ہو کیونکہ کوئی عقل صحیح تجویز نہیں کرسکتی جو دین میں اکراہ اور جبر جائز ہو اس واسطے اللہ جلّ شانہٗ نے قرآن کریم میں فرمایا ۱؂ ۔جب ہم انصاف کے ساتھ سوچتے ہیں کہ الٰہی کتاب کیسی ہونی چاہیے تو ہمارا نور قلب بڑے زور سے شہادت دیتا ہے کہ الٰہی کتاب کے چہرہ کا حقیقی حلیہ یہی ہے کہ وہ اپنی روشنی سے علمی اور عملی طریقوں میں حق الیقین کا آپ راہ دکھاتی ہو اور پوری بصیرت بخش کر اسی جہان میں بہشتی زندگی کا نمونہ قائم کر دیتی ہو کیونکہ الٰہی کتاب کا زندہ معجزہ صرف یہی ہے کہ وہ علم اور حکمت اور فلسفہ حقّہ کی معلم ہو اور جہاں تک ایک سوچنے والے کے لئے روحانی حقائق کے سلسلہ کا پتہ لگ سکتا ہو وہ تمام حقائق اس میں موجود ہوں اور صرف مدعی نہ ہو بلکہ اپنے ہر یک دعویٰ کو ایسے طور سے ثابت کرے کہ پوری تسلی بخش دیوے اور جس تعمق اور امعان کے ساتھ اس پر نظر ڈالی جاوے صاف دکھائی دے کہ فی الواقعہ وہ ایسا ہی معجزہ اپنے اندر رکھتی ہے کہ دینی امور میں انسانی بصیرتوں کو ترقی دینے کے لئے اعلیٰ درجہ کی مددگار اور اپنے کاروبار کی آپ ہی وکیل ہے۔ بالآخر میں اپنے ہر ایک مخالف کو مخاطب کر کے علانیہ طور پر متنبہ کرتا ہوں کہ اگر وہ فی الواقع اپنی کتابوں کو منجانب اللہ سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ اس ذات کامل سے صادر ہیں جو اپنی پاک کتاب کو اس شرمندگی اور ندامت کا نشانہ بنانا نہیں چاہتا کہ اس کی کتاب صرف بے ہودہ اور بے اصل دعووں کا مجموعہ ٹھہرے جن کے ساتھ کوئی ثبوت نہ ہو تو اس موقعہ پر ہمارے دلائل کے مقابل پر وہ بھی دلائل پیش کرتے رہیں کیونکہ بالمقابل