کہ کلام الٰہی کے معارف اور حقائق لوگوں کو معلوم ہوں۔ اس لئے اس رسالہ میں ہمیشہ کے لئے یہ التزام کیا گیا ہے کہ کوئی
دعویٰ اور دلیل اپنی طرف سے نہ ہو بلکہ قرآن کریم کی طرف سے ہو جو خدا تعالیٰ کا کلام اور اس دنیا کی تاریکیوں کے مٹانے کے لئے آیا ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ قرآن شریف میں ہی ایک
اعجازی خاصیت ہے کہ وہ اپنے دعوے اور دلیل کو آپ ہی بیان کرتا ہے اور یہی ایک اول نشانی اس کی منجانب اللہ ہونے کی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنا ثبوت ہر ایک پہلو سے آپ دیتا ہے اور آپ ہی دعویٰ
کرتا اور آپ ہی اس دعویٰ کے دلائل پیش کرتا ہے اور ہم نے قرآن کی اس اعجازی خاصیت کو اس رسالہ میں اس لئے شائع کرنا چاہا کہ تااس تقریب سے وہ تمام مذاہب بھی جانچے جائیں جن کے پابند
اسلام کے مقابل پر ایسی کتابوں کی تعریف کررہے ہیں جن میں یہ طاقت ہرگز نہیں کہ وہ اپنے دعوے کو دلیل کے ساتھ ثابت کر سکیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ الٰہی کتاب کی پہلی نشانی علمی طاقت ہے
اور یہ امر ممکن ہی نہیں کہ ایک کتاب فی الحقیقت الہامی کتاب ہو کر کسیؔ سچائی کے بیان میں جو عقائد دینیہ کی ضروریات میں سے ہے قاصر ہو یا ایک انسانی کتاب کے مقابل پر تاریکی اور نقصان
کے گڑھے میں گری ہوئی ہو۔ بلکہ الٰہی کتاب کی اول نشانی تو یہی ہے کہ جس نبوت اور عقیدہ کی اس نے بنیاد ڈالی ہے اس کو معقولی طور پر ثابت بھی کرتی ہو کیونکہ اگر وہ اپنے دعاوی کو ثابت
نہیں کرتی بلکہ انسان کو گرداب حیرت میں ڈالتی ہے تو ایسی کتاب کو منوانا اکراہ اور جبر میں داخل ہوگا۔ اور یہ بات نہایت صاف اور سریع الفہم ہے کہ وہ کتاب جو حقیقت میں کتاب الٰہی ہے وہ
انسانوں کی طبیعتوں پر کوئی ایسا بوجھ نہیں ڈالتی اور ایسے