ظاہر کرنا مقصود الٰہی ہوتا ہے جو پیشگوئیوں کے متعلق ہیں جن کو عوام نہیں جانتے اور بعض وقت ایک باریک پیشگوئی تو لوگوں کے امتحان کے لئے ہوتی ہے۔ تاخدا تعالیٰ انہیں دکھلاوے کہ ان کی عقلیں کہاں تک ہیں اور ہم لکھ چکے ہیں کہ حدیث نبوی کی رو سے اس پیشگوئی میں کج دل لوگوں کا امتحان بھی منظور تھا۔ اس لئے باریک طور پر پوری ہوئی مگر اس کے اور بھی لوازم ہیں جو بعد میں ظاہر ہوں گے جیسا کہ کشف ساق کی پیشگوئی اس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ والسّلام علٰی من اتّبع الہُدٰی راقم میرزا غلام احمد عفی اللہ عنہ قادیان۔ گورداسپور ہماری نئی تالیفات ست بچن آریہ دھرم