وہ اب تک صدی کے باراں برس گذرنے پر بھی زندہ ہے پس اے مسلمان مخالفو! جو اپنے تئیں مسلمان سمجھتے ہو اپنی جانوں پر رحم کرو کیونکہ یہ اسلام نہیں ہے جو تم سے ظاہر ہو رہا ہے۔ نئی صدی نے تمہیں ایک مجدد کی حدیث یاد دلائی تم نے اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں کی۔ کسوف خسوف نے تمہیں مہدی کے آنے کی بشارت دی مگر تم نے اس کو بھی ایک بے ہودہ بات کی طرح ٹال دیا تمام بزرگوں کی فراستیں اور مکاشفات مسیح موعود کے لئے ایک اجماعی قول کی طرح چودھویں صدی تک تم نے سن لیں پر تم نے اس کو بھی رد کر دیا قرآن کو چھوڑا اور ان حدیثوں کو بھی ترک کر دیا جو قرآن کے مطابق ہیں مگر یاد رکھو کہ تم کاذب ہو ضرور تھا کہ تم اس آخری صادق کے مکذّب ہوتے کیونکہ جو کچھ اس پاک نبی نے تمہارے حق میں فرمایا تھا ضرور تھا کہ وہ سب پورا ہو۔ بعض لوگ نہایت نا سمجھی سے کہا کرتے ہیں کہ اس طور سے پیشگوئی کے پورے ہونے میںؔ فائدہ کیا نکلا اور حق کے طالبوں کو کیا فیض حاصل ہوا۔ سو اُنہیں اگر دانشمند ہیں تو ان تمام پیشگوئیوں کو نظر کے سامنے لے آنا چاہئے جو خدا کے پاک نبیوں کی معرفت پوری ہوئیں تامعلوم ہو کہ پیشگوئیوں میں خدا تعالیٰ کی ایک خاص غرض نہیں ہوتی بلکہ بعض وقت قدرت کا ظاہر کرنا مدنظر ہوتا ہے اور بعض وقت ان علوم اور اسرار کا بقیہ نوٹ: سو وہ صدی کے آتے ہی اس جہان سے گذر گئے اور بعض ملاؤں نے مولوی عبدالحی لکھنوی کو اس صدی کا مجدد خیال کیا تھا۔ انہوں نے بھی پہلے ہی فوت ہو کر اپنے ایسے دوستوں کو شرمندہ کیا۔ منہ